خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 259
خطبات طاہر جلد 14 259 خطبہ جمعہ 14 / اپریل 1995ء منتشر ہو گئے۔اگر پہلے پولیس ایسی کارروائی کرتی تو ہر گز بعید نہیں تھا مگر بعید تھا اس پہلو سے کہ خدا تعالیٰ کے ہاں مقدر تھا ایک فیصلہ تھا کہ ان کو شہادت کا ایک خاص مقام عطا کیا جائے گا۔چنانچہ جو مختلف رویا دیکھی گئی ہیں ان میں سے بعض کا ذکر کرتا ہوں اس سے پتا چلتا ہے کہ ان کی یہ شہادت کوئی عام روزمرہ کی شہادت نہیں۔عام شہادت کا بھی بہت بڑا مقام ہے، غیر معمولی مرتبہ رکھتی ہے جیسا کہ قرآن کریم کی آیت سے میں نے ثابت کیا ہے لیکن بعض شہادتیں بعض دوسری شہادتوں پر فوقیت لے جاتی ہیں۔ضمنا یہ ذکر کر دوں کہ ابوظہبی میں بھی ایک عرصہ وہاں ملازمت کرتے رہے وہاں سے بھی احمدیت کی بنا پر ان کو فارغ کیا گیا حالانکہ اور بہت سے ابوظہبی میں خدمت کرنے والے ہیں جن کو فارغ نہیں کیا گیا تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر جگہ بڑی دلیری کے ساتھ احمدیت کی تبلیغ کرتے تھے یہاں تک کہ ماحول ان کو برداشت نہیں کر سکتا تھا۔جور دیا ان کے متعلق مبشرات دیکھی گئی ہیں ان میں سے ایک تو ان کی اپنی رؤیا ہے جب وہ دولت خان صاحب سے جیل میں ملاقات کر کے آئے ہیں اور حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہادت کا تذکرہ اور اپنی دلی تمنا کا اظہار کیا کہ کاش میں بھی ایسا مرتبہ پا جاؤں۔تو انہوں نے رویا میں دیکھا کہ وہ ایک خوبصورت باغ میں ہیں جہاں پر ایک تخت پڑا ہے اور یہ اس تخت پر تخت نشین ہو گئے ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ غیر معمولی عظمت کا اور فضل کا نشان ان کو عطا ہونے والا تھا۔ان کی بھاوجہ نے رویا میں دیکھا کہ کوئی بکری کو ذبح کر رہا ہے ان کی آنکھ کھل گئی۔رات کے دو بجے تھے اس وقت صدقہ دینے کا ارادہ کیا اور صدقہ کی رقم الگ کر کے رکھ لی ، پھر سو گئیں۔پھر وہی خواب دکھائی دیا کہ ایک بکری ہے اس کے ٹکڑے سامنے پڑے ہیں اور ریاض کی بھا بھی اپنے والد عظیم شاہ سے کہتی ہیں کہ میں نے تو صدقہ بھی دے دیا ہے لیکن پھر بھی آپ نے بکری کو ذبح کر دیا۔لیکن اس کے ساتھ ایک اور بکری بھی تھی وہ ذبح کرنا چاہتے تھے مگر وہ انہوں نے ذبح نہیں کی اور اس کو چھوڑ دیا۔تو ایک کی شہادت یعنی شاتان تذبحان کا مضمون اس رویا میں پہلے ہی دکھا دیا گیا تھا اور اس مرتبہ ایک کی شہادت کو کافی سمجھا گیا۔نورالدین احمد صاحب جو شہید ریاض احمد کے ہم زلف ہیں انہوں نے رویا میں دیکھا کہ دو بیل ہیں جن میں سے ایک طاقتور اور ایک کمزور ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے دل میں آیا کہ ان کی