خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 258 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 258

خطبات طاہر جلد 14 258 خطبہ جمعہ 14 اپریل 1995ء جوان کے خسر تھے رشید احمد خان صاحب ان کو بھی انہوں نے اپنی طرف سے اتنا مارا کہ وہ سمجھے کہ مر چکا ہے اور جو دوسرا پہلو تھا کہ دوسری بکری بچ گئی ہے وہ اس طرح پورا ہوا لیکن جب ان کو مردہ سمجھ کر مردہ خانے لے جانے کے لیے پولیس کی وین میں ڈال کر بھجوایا گیا تو یہ بتاتے ہیں کہ مجھے مسلسل ہوش تھی اور اگر چہ میں اس وقت حرکت نہیں کر سکتا تھا اس وقت لیکن مجھے ہوش تھی اور میں ان کی باتیں سن رہا تھا اور دین میں بھی پولیس نے آکر ان کو ٹھڈے مارے، وہیں وین میں موجود پولیس نے کہا ہم بھی ثواب میں شریک ہو جائیں اور جب یہ مردہ خانے پہنچنے لگے تو اس وقت انہوں نے ان کو بتایا کہ میں زندہ ہوں مجھے پانی دو۔اس پر پولیس نے کہا کہ ہیں ! تم ابھی تک زندہ ہو اور ان کا ارادہ بد معلوم ہوتا تھا لیکن پاکستان کی پولیس کا یہ کام ہے کہ پیسہ کا انکار ممکن نہیں ان کے لیے۔چنانچہ ان کو اتنی ہوش رہی کہ انہوں نے کہا کہ تم قیمت مقرر کرلو مجھے پشاور پہنچا دو تو جوتم ما نگتے ہو میں تمہیں دے دوں گا۔چنانچہ جو بھی ان کے ساتھ طے ہوا اللہ بہتر جانتا ہے کیا تھا اس کی تفصیل نہیں آئی مگر اس پیشکش کے بعد پولیس نے مردہ خانے پہنچانے کی بجائے پشاور میں جہاں احمدی دوست تھے ان کے سپر د کیا۔یہ جو واقعہ اس طرح گزرا ہے اس میں حکومت کا کردار یہ ہے کہ جب وہاں کے ایس پی نے ڈپٹی کمشنر کو فون کیا اور کہا کہ یہ صورت حال ہے ہمیں بتایا جائے کہ کیا کرنا ہے۔تو ڈپٹی کمشنر صاحب نے جیسا کہ ایسے لوگوں سے توقع ہے کہا کہ دیکھیں امن عامہ کی صورت بگاڑنی نہیں اس لیے ہونے دو جو ہوتا ہے یعنی امن عامہ کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی کسی قسم کی حکومت کے لئے الجھن پیش نہ آئے خواہ معصوم مارے جائیں اس سے حکومت کو کوئی غرض نہیں ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور پولیس نے اپنے افسر اعلیٰ کا مدعا سمجھتے ہوئے قطعاً ایک ذرہ بھر بھی ان کو بچانے کی کوشش نہیں کی لیکن ایک ایسا وقت آیا جبکہ مجمع کا آپس میں اختلاف ہو گیا۔ان کی شہادت کے بعد جب یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان کو گھسیٹا جائے گلیوں میں اور ننگا کیا جائے اور اس قسم کی اور مکروہ باتیں جب وہ کر رہے تھے تو مجمع میں اختلاف ہو گیا اور کچھ شرفاء ایسے تھے جو ڈٹ گئے کہ تم کیا بکواس کر رہے ہو یہ کوئی طریق نہیں ہے تم نے جو کرنا تھا کر دیا لیکن اب یہ اگلی کارروائی نہیں ہوگی۔اس پر جب مشتعل ہوئے دونوں گروہ اور یہ خطرہ ہوا کہ اب آپس میں ماریں گے ایک دوسرے کو ، اس وقت پولیس نے پھر فضائی فائر کئے اور ہوائی گولیاں چلائیں تا کہ مجمع منتشر ہو جائے اور مجمع کا یہ حال تھا کہ وہ چند ہوائی گولیاں بھی ان کے لیے کافی تھیں وہ ان سے