خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 257 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 257

خطبات طاہر جلد 14 257 خطبہ جمعہ 14 اپریل 1995ء چونکہ پٹھانوں میں قبائلی عصبیتیں پائی جاتی ہیں اس لئے کسی ایک پٹھان کا جس کا پیچھا مضبوط ہو، اس کے ساتھ ان کا ایک قبیلہ ہو، کچھ بھائی کچھ دوسرے اثر والے لوگ ہوں، ان کا براہ راست فورا قتل کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کے ساتھ تعصبات جاگ اٹھتے ہیں اور بعض دفعہ ایک لمبا سلسلہ قتل و غارت کا اور انتظام کا شروع ہو جاتا ہے۔ پس یہ سازش کی گئی ان دونوں مبلغین کے خلاف یعنی رشید احمد خان صاحب اور چوہدری ریاض احمد صاحب کے خلاف کہ جب یہ ضمانت کروانے آئیں گے اس وقت ان کو مارا جائے گا۔ چنانچہ جب بڑی دلیری کے ساتھ ، چوہدری رشید احمد صاحب اپنے اس داماد کو ساتھ لے کر اور ساتھ ایک اور دوست بھی تھے ان کو لے کر جب ضمانت کے لئے وہاں پہنچے تو پہلے سے یہ پانچ ہزار مشتعل عوام کا وہاں مجمع اکٹھا کیا جا چکا تھا اور وہی ملاں جس کا میں نے نام لیا ہے یہ ان کی قیادت کر رہا تھا اور بڑے زور کے ساتھ اشتعال دلا کر ان کو سنگسار کرنے کی تعلیم دے رہا تھا۔ اب صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کو بھی پتھروں سے سنگسار کیا گیا ہے اور یہ ایک اور مشابہت اس بات سے ملتی ہے۔ چنانچہ جب وہ حملہ آور ہوئے تو ان کو پکڑا اور سب سے پہلے ان کی پیشانی پر بڑے زور سے پتھر مارا اور اسی پتھر کے ذریعے یہ نیم بے ہوش ہو کر زمین پر جا پڑے لیکن اتنی ہوش تھی کہ مسلسل کلمہ ادا کرتے رہے اور آخری آواز جو ان کی سنائی دی وہ لا اله الا الله محمد رسول الله کی آواز تھی۔ چنانچہ اس حالت میں جب ان کو شہید کر دیا گیا بالآخر تو پھر ان کی نعش کو گھسیٹا گیا اور ان کے اوپر ناچ کیا گیا اور وہاں کے مشتعل پٹھان مسلمانوں نے ان کی چھاتی پر چڑھ کر ناچ کئے اور اس طرح اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت پیش کیا۔ پولیس کا یہ حال تھا کہ ان کو بچانے کی بجائے ان کی نعش کو ٹھڈے مارے اور کہا کہ ہم بھی اس طرح ثواب میں شریک ہو جاتے ہیں ۔ بالآخر ان کی لاش کو پشاور منتقل کیا گیا اور موجود پولیس نے نہ صرف یہ کہ ان کو بچانے کی کوشش نہیں کی بلکہ با قاعدہ گھیرا ڈال کر یہ تاثر دیا گیا کہ پولیس کی حفاظت میں ہیں کوئی فکر کی بات نہیں اور تمام مجمع جو قاتل تھا وہ اس گھیرے کے اندر ان کو قتل و غارت کر رہا تھا ، ان کے گرد کوئی پولیس کا گھیرا نہیں تھا۔ بہر حال جو بھی واقعہ مقدر تھا عظیم شہادت کا وہ اسی طرح رونما ہوا پھر ان کی نعش کو دوسری جگہ پشاور منتقل کیا گیا چادر ڈال کر ان کو پھر آخرر بوہ پہنچایا گیا۔