خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 256 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 256

خطبات طاہر جلد 14 256 خطبہ جمعہ 14 اپریل 1995ء ان سے جیل میں چوہدری ریاض احمد صاحب ملنے گئے اور ان سے باتوں میں یہ کہا کہ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے مجھے تو عبداللطیف شہید کا انجام سب سے اچھا لگتا ہے۔وہ واقعہ سنایا اور کہا میری دلی تمنا بھی یہی ہے کہ میں عبداللطیف شہید کا مرتبہ حاصل کروں اور عجیب ہے، یہ اتفاق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا تصرف ہے کہ ان کی شہادت سے پہلی رات ان کی بھابی نے ایک رویا میں دیکھا کہ ایک بکری ذبح کی جارہی ہے اور انہوں نے اسی وقت صدقہ نکال کے ایک طرف رکھ دیا مگر پھر رویا میں دیکھا کہ ایک بکری ذبح ہو چکی ہے اور ایک بکری باقی رہ گئی ہے اور وہ چونکہ ایک بکری ذبح ہو چکی ہے دوسری کو ان کے والد ذبح کرنے لگے تھے تو انہوں نے کہا کہ یہ تو ہو چکی ہے اس لئے کوئی ضرورت نہیں ہے اس لئے ایک بکری کو چھوڑ دیا گیا۔یہ بظاہر ایک معمولی بات ہے لیکن اس کا بہت گہرا تعلق تاریخ احمدیت سے ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہید اوران کے ساتھی کی شہادت کا واقعہ اللہ تعالیٰ نے الہام کے طور پر آپ کو بتایا جو یہ تھا شاتــان تـذبـحـان “ (تذکرہ صفحہ: 69) دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔تو شاتان تذبحان کا اس واقعہ سے ایک گہراتعلق تھا اس لئے یہ خیال کہ شاید ان کی خواہش کا ذکر کر کے ہم خواہ مخواہ ان کی شہادت کو ایک غیر معمولی مقام دے رہے ہیں اس بات نے رد کر دیا کہ ایک خاتون کو وہی رؤیا دکھائی گئی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام میں جن الفاظ میں عظیم شہادتوں کی خبر دی گئی تھی اور ان کے ذہن میں اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔جب مجھے اس رویا کی اطلاع بھیجی گئی تو اس میں بھی ان کا کوئی تعلق نہیں باندھا گیا۔گویا یہ الگ اتفاقی واقعہ ہے اور شہادت ایک الگ معاملہ ہے۔وہ سمجھتے رہے کہ صرف اس شہادت کی خبر ہے حالانکہ بکری ذبح ہونا اور ایک بکری کا چھوڑا جانا یہ بتاتا ہے کہ شانان تذبحان سے اس واقعہ کا بہت گہراتعلق ہے لیکن یہاں دو نہیں بلکہ ایک شہادت ہوگی۔پس جب انہوں نے جیل میں ان سے ذکر کیا تو ساتھ ہی اس خواہش کا اظہار بھی کیا اور اس کے بعد پھر یہ واقعہ ہوا کہ وہ علماء جنہوں نے ان کے خلاف قتل کی سازش کر رکھی تھی ، یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے ان کا جیل میں داخل ہونا اور ضمانت پر نہ رہا ہونا دراصل ایک چال تھی کہ اس پر ان کو ضمانت پر رہا کروانے کی خاطر جب ان کو تبلیغ کرنے والے آئیں گے تو ہم ان کو قتل کریں گے اور مقامی طور پر