خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 248 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 248

خطبات طاہر جلد 14 248 خطبہ جمعہ 7 اپریل 1995ء کی ذات میں اپنے وجود کو مٹانے سے جلوہ گر ہوئی ہے۔وہ تمام صفات جو رحمانیت کے راہ میں روک بنتی ہیں وہ کثافتیں ہیں جن کے ہوتے ہوئے رحمانیت انسان کے وجود میں جلوہ گر نہیں ہو سکتی۔وہ کون کون سی صفات ہیں جن کا رحمانیت سے تضاد ہے، یہ بھی ایک مضمون ہے۔پہلے میں آپ کو یہ سمجھا رہا تھا کہ رحمانیت سے تعلق رکھنے والی وہ کون سی صفات ہیں جو مخلوق میں موجود تو ہیں لیکن انہیں صیقل کرنا، انہیں چمکانا انہیں ابھار کر اپنا کر اپنے وجود کا ایک جزو بنا لینا یعنی عمداً کوشش کرنے کے بعد ان صفات کے ساتھ جو وجود میں موجود ہیں کلیہ ہم آہنگ ہو جانا یہ وہ مضمون ہے یہ وہ مقصد ہے جس کی خاطر انسان کو پیدا کیا گیا۔اور صفات باری تعالیٰ کا کامل علم آنحضرت ﷺ کو دے کر مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ تمہارے مقاصد ان قوموں کے مقاصد سے بہت زیادہ وسیع ، بہت زیادہ بلند اور بہت زیادہ تعلیم ہیں۔پہلی قومیں اگر خدا کی چند صفات کی مظہر بنی تھیں تو تمہیں تمام صفات باری تعالیٰ کا مظہر ہونا ہوگا۔اس لئے ہر پہلو سے اپنی نفسانیت کو مٹانا ہوگا۔یہ نفسیا نیت کا مٹانا اگر میاں بیوی کے تعلقات میں نظر نہ آئے ، باپ بیٹے کے تعلقات میں نظر نہ آئے ، ساس بہو کے تعلقات میں نظر نہ آئے ،خسر اور بہو یا داماد اور ساس اور سسر کے تعلقات میں نظر نہ آئے تو یہ رحمانیت کی باتیں، یہ صفات باری تعالیٰ کے تذکرے، یہ سارے فرضی قصے ہیں ان کے نتیجے میں پھر آپ کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔پس میں آپ کو صوفی نہیں بنانا چاہتا۔میں آپ کو وہ ولی بنانا چاہتا ہوں جو بنانے کے لئے محمد رسول الله ﷺ تشریف لائے اور ولایت کا مضمون صفات باری تعالیٰ کو سمجھنے سے تعلق نہیں رکھتا ، ان کو اپنی ذات میں جاری کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔تفصیل کے ساتھ ان کو سمجھ کر ہمیشہ اپنی ذات کی نگرانی سے تعلق رکھتا ہے کہ جہاں جہاں ان کے اطلاق میں کمی ہے وہاں ان کو میں پوری طرح اطلاق کر کے دکھاؤں۔اس راہ میں مصیبتیں ہیں ، کوششیں ہیں، قربانیاں ہیں، جب ایک چیز کو رگڑ کے صاف کیا جاتا ہے تکلیف پہنچتی ہے۔شیشہ شور مچائے یا نہ مچائے مگر انسان جب اپنے آپ کو صیقل کرتا ہے تو اس کا نفس ہر قدم پر کراہتا ہے، ہر صفائی کرنے والے ہاتھ کی حرکت سے اس کو تکلیف محسوس ہوتی ہے۔پس یہ کوئی آسان کام نہیں جو گوشتہ تنہائی میں جا کر ذکر الہی سے نصیب ہو جائے۔ذکر الہی وہ ہے جو گوشتہ تنہائی سے آپ کی ذات کو باہر نکالتا ہے اور آپ خدا کی اس شان کے مظہر بننے لگتے ہیں