خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 249
خطبات طاہر جلد 14 249 خطبہ جمعہ 7 / اپریل 1995ء که کنت کنزا مخفیا میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا فاردت ان اعرف پس میں نے ارادہ کیا کہ میں پہچانا جاؤں اور ظاہر ہوں ، تب خدا فرماتا ہے کہ میں جلوہ گر ہوا ہوں اور پھر میں پہچانا گیا۔تو یہ جو عمل ہے یہ اسماء الہی پر غور کرنے اور ان کو اپنی ذات میں جاری کرنے کے ساتھ اس طرح ظاہر ہوتا ہے۔جہاں جہاں صفت باری تعالیٰ آپ کی ذات میں واقعہ وجود کا حصہ بن جائے وہاں وہ ابھر کر سامنے آجاتی ہے۔دوسری ملتی جلتی تمام انسانی صفات کو دبا لیتی ہے۔ان کا کوئی بھی وجود باقی نہیں رہتا اور ایک خدا نما وجود انسان کی ذات میں ابھر نے لگتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فرمائے کہ اس مضمون سے جیسا کہ حق ہے اسی طرح فائدہ اٹھا ئیں محض ذہنی جسکے نہ ہوں کہ آج بہت عرفان کی باتیں سنیں۔وہ عرفان جو عرفان الہی ہے اس کے نتیجے میں تو ذات میں پاک تبدیلیاں ہوا کرتی ہیں وہ تبدیلیاں مقصود ہیں وہی مقصود ہونی چاہئیں ورنہ تو پھر محض مجلس کے قصے ہیں اس سے زیادہ ان کی کوئی حیثیت نہیں۔میں نے 1887ء کہہ دیا تھا 1987 ء کی بجائے 1887ء میں بھی کوئی ملتا جلتا واقعہ ہوا ہوگا شاید۔حیرت انگیز طور پر مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت کے جلوے خدا اس دور میں پھر دکھا رہا ہے اور اصل منشاء یہ ہے یہ بتانا کہ یہ زمانہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی کا زمانہ ہے کسی اور کا زمانہ نہیں اور جب تک ان سالوں میں وہ جلوے دہرائے جاتے رہیں گے جن کا میں نے ذکر کیا ہے اس وقت تک اس زمانے کا انسان ہمیشہ یقین سے بھر جاتا رہے گا کہ نام بدل رہے ہیں مگر زمانہ ایک ہی ہے یعنی آخرین کا زمانہ جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے جلوہ احمدیت سے تعلق رکھتا ہے۔تو غلطی ہو بھی گئی تو کوئی حرج نہیں اس سے ایک مضمون نکل آیا۔خطبہ ثانیہ کے بعد حضور انور نے فرمایا: آج چونکہ میں نے سفر پر جانا ہے اس لئے انشاء اللہ آج جمعہ کے ساتھ عصر کی نماز بھی جمع ہوگی اور احباب بھی دعا کریں اللہ ہر لحاظ سے اس سفر کو با برکت کرے۔آمین