خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 246 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 246

خطبات طاہر جلد 14 246 خطبہ جمعہ 7 / اپریل 1995ء ہے اس کے مطابق ہی انسان کو پیدا کیا ہے۔دوسرا یہ کہ خدا کی صفات باری تعالیٰ نے اپنا جلوہ انسان میں ان سب مخلوقات سے زیادہ دکھایا ہے جو غیر انسانی مخلوقات ہیں اور اس پہلو سے خدا کے اسماء کی ایک ہلکی سی تصویر انسان کے کردار میں رکھی گئی ہے۔یہ تصویر جب کامل ہوئی ہے تو اس کا نام خلیفہ اللہ رکھا گیا اور خلیفتہ اللہ خود سب سے زیادہ صفت رحمانیت کا مظہر تھا۔اس لئے اس کی صفات کا خلاصہ یہ بیان فرمایا گیا کہ تو رحمۃ العالمین ہے۔الرحمن کے ساتھ یہ تعلق بنتا ہے آنحضرت ﷺ کا اور تمام مخلوق کا۔اب میں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ یہ نکتہ سمجھنے کے بعد اگر یہ خیال ہو کہ رحمان سے تو تعلق کٹ صلى الله گیا محمد رسول اللہ ﷺ سے تعلق قائم رہے گا تو بالکل جھوٹ ہے۔اگر رحم سے تعلق کاٹنے کے نتیجہ میں رحمانیت سے تعلق کاٹا جاتا ہے تو جو رحمانیت کا مظہر وجود ہے اس سے بھی لازماً کلیہ تعلق کٹ جاتا ہے اور ایک فرضی اسلام کے اندر ایک ایسا انسان زندگی بسر کرتا ہے جس کو پتا ہی نہیں کہ اس کے اسلام کی کوئی بھی حقیقت نہیں ہے۔وہ ہر نماز کی ہر رکعت میں خدا کو رحمن کہہ کر مخاطب کرتا ہے اور پھر بعد میں اِيَّاكَ نَعْبُدُو وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ اے رب ! اے رحمن ! اے رحیم ! اے مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ ! صرف تجھ سے مانگتا ہوں اور کسی سے نہیں مانگتا۔تجھ سے ہی مانگوں گا اور کسی سے نہیں مانگوں گا ، یہ اقرار کر رہا ہے اور اس کو پتا ہی نہیں کہ وہ تو اصل سے تعلق کاٹ بیٹھا ہے۔اب مانگتے رہو کیونکہ اس طرف کوئی جواب دینے والا رحمن نہیں رہا۔جس کو تم نے اپنی ذات سے کا لعدم کر دیا وہ تمہارے لئے گویا کہ خود کا لعدم ہو گیا اس کا کوئی وجود تمہارے لئے باقی نہیں رہا۔تو دعاؤں کی قبولیت کے بھی راز ہوتے ہیں محض یہ کہہ دینا کہ جی ہم روتے روتے دعائیں کرتے ہیں ، ہم تہجد بھی پڑھتے ہیں ، روزے بھی رکھتے ہیں ، چندے بھی دیتے ہیں ، پھر بھی بعض دعا ئیں نہیں سنی جاتیں۔مگر بعض دفعہ کیا ایسے لوگوں کی تو اکثر دعائیں نہیں سنی جاتیں۔بعض دفعہ سنی جاتی ہیں۔یہ کہا جا سکتا ہے اس کا اور مضمون سے تعلق ہے وہ تو مضطر کی دعا مشرک بھی ہو تو سنی جاتی ہے۔مضطر کی دعا جو بے قرار ہو جائے ، حد سے زیادہ اس کی حالت زار ہو چکی ہو وہاں رحمانیت انسان کے تعلق کاٹنے کے باوجود خود اتر آتی ہے اور رحمانیت کی ایک عجیب شان ہے۔عام روز مرہ کے دستور میں جن انسانوں نے اس سے تعلق کاٹ لیا جب اس کو ایسا بے سہارا دیکھتی ہے اس انسان کو