خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 245
خطبات طاہر جلد 14 245 خطبہ جمعہ 7 / اپریل 1995ء ان تمام صفات کا تفصیل سے ذکر کروں ، ایک دوسرے سے تعلق بیان کروں اور پھر اس سے آگے صفات باری تعالیٰ کس طرح شاخ در شاخ پھوٹتی ہیں ان کا ذکر کروں ، یہ اللہ تعالیٰ توفیق دے گا مختلف وقتوں میں پہلے بھی میں بیان کرتا رہا ہوں آئندہ بھی انشاء اللہ حسب توفیق بیان کرتا رہوں گا لیکن جو بات میں آج بیان کر رہا ہوں وہ رحمانیت کے تعلق میں آپ کو ذمہ داریاں سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں اور یہ سمجھانے کے بعد کہ رحمان لفظ کسی اور لفظ سے مشتق نہیں ہے، کسی اور لفظ کا مرہون منت نہیں ہے جو انسان اپنی صفات کے بیان کے لئے گھڑتا ہے اور ڈھالتا ہے۔اس سے ملتے جلتے لفظ جو اسماء باری تعالیٰ کے لئے ہمیشہ سے ہیں وہ انسان نے ان صفات سے اخذ کئے ہیں جو خدا نے انسان میں پیدا کر رکھی تھیں اور وہ صفات مخلوق ہیں۔خدا کی صفات کے بچے نہیں ہیں کیونکہ لفیلد وَلَمْ يُولَدْ سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ خدا کی کوئی صفت بھی براہ راست بچے نہیں دیتی بعینہ ویسا وجود پیدا نہیں کرتی اور اگر کوئی یہ سمجھے کہ بعینہ ویسا وجود پیدا کرتی ہے تو اللہ کے اسماء میں الحاد کرنے والا ہے۔اس لئے اس بات کو پیش نظر رکھ کر آپ خود اب اچھی طرح سمجھ لیں کہ رحمان بھی کسی انسانی لفظ سے یا زندگی کی صفات سے مشتق نہیں ہے۔زندگی کی صفات اسی نام سے تخلیق پاتی ہیں اور ہر تخلیق کے پیچھے ایک صفت یا ایک سے زیادہ صفات ، ایک اسم یا ایک سے زیادہ اسماء کارفرما ہوتے ہیں اور ان کے جلوے ان مخلوقات میں خصوصیت سے دکھائی دیتے ہیں۔تمام مخلوقات میں یہی نظام کار فرما ہے۔جو ابتداء آفرینش کے وقت پیدا ہونے والی مخلوقات تھیں ان میں ابھی صفات کا مضمون بننا شروع ہوا تھا۔ابھی تخلیق کے ابتدائی مراحل میں تھا اس لئے ان کی تخلیق کے وقت خدا تعالیٰ کی تمام صفات نے بر وقت جلوہ نہیں دکھایا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ، وقت کے تقاضوں کے مطابق صفات باری تعالیٰ ایک سے بعد دوسری تخلیق کرتی رہیں اور اعلیٰ درجے کی تخلیق پر خدا کی زیادہ اسماء کی جھلک ہے۔ادنی درجہ کی تخلیق میں نسبتا کم اسماء کی جھلک ہے مگر خدا کے اسماء کی جھلک کے بغیر کوئی مخلوق نہیں ہے۔یہ مضمون کامل ہوا انسان پر جا کر یعنی انسان میں ان صفات کا نچوڑ رکھ دیا گیا۔ان صفات کے پر تو کا نچوڑ کہنا چاہئے۔ان صفات کا جو عکس پڑتا ہے، جو تخلیق ہوتی ہے ان صفات کے اثر سے، ان تمام صفات کا کچھ نہ کچھ مادہ انسان میں رکھ دیا گیا۔پس یہ مضمون کہ اللہ نے انسان کو اپنی فطرت پر پیدا کیا اس کے دو پہلو ہیں ایک تو یہ کہ خدا نے جو فطرت بنائی ہے یعنی قوانین بنائے ہیں ، ہر چیز بنائی