خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 244 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 244

خطبات طاہر جلد 14 244 خطبہ جمعہ 7 / اپریل 1995ء تو بات واضح ہے اس لئے اپنی غلطی کے احتمال کو کالعدم سمجھنا اور یہ حتمی فیصلہ دے دینا کیونکہ ہمارا ہاتھ اوپر کا ہاتھ اور زبردستی کا ہاتھ ہے اس لئے ہم جس میں جو کیڑے ڈالیں گے اس کو قبول کرنے پڑیں گے یہ بھی ایک تکبر کا انداز ہے اور اس کے بعد یہ ضد کہ دوسرا خاندان ذلیل اور رسوا ہوکر ، نیچے گر کر ہم سے ملے تو ہم تعلق قائم کریں گے ورنہ نہیں۔یہ کرنے کے بعد پھر رحمان سے دعائیں ! اے اللہ رحم فرما اس مشکل میں ہم پڑ گئے ، اس مصیبت میں مبتلا ہو گئے ،فلاں فلاں مصائب سے نجات بخش ، یہ سارے فرضی قصے ہیں۔پس صفات باری تعالیٰ کے مضمون کو سمجھایا اسماء باری تعالی کے مضمون کو سمجھنا اس لئے ضروری ہے جو میں اس پر زور دے رہا ہوں کہ یہ محض ایک صوفیاء کی زبان کی یا ان کے ہونٹوں کی رٹ نہیں ہے۔اسماء باری تعالیٰ کا ہر مخلوق سے ایک تعلق ہے اور انسان سے تمام اسماء کا تعلق ہے۔عَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاء كُلَّهَا ( البقرہ:32) ہم نے آدم کو تمام اسماء بتا دیئے۔اگر ان تمام اسماء کا آدم سے تعلق نہیں تھا تو یہ مضمون بے معنی ہو جاتا ہے اور یہ اسماء جو خصوصیت سے صفات باری تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں یہ تمام تر محمدرسول اللہ اللہ کے سوا کسی کو نہیں بتائے گئے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا معاشرہ اور انسانی صفات ایک لمبے عرصے تک ترقی کر کے ارتقاء کے دور سے گزرتے ہوئے حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اس مرتبے تک جا پہنچیں کہ ان تمام صفات میں اللہ کے اسماء کی جلوہ گری ہو سکے۔اگر اس سے پہلے ان تمام صفات میں جلوہ گری ممکن ہوتی اور پھر بھی خدا تمام صفات کا علم اس زمانے کے آدم کو نہ دیتا تو یہ نا انصافی تھی، اس لئے یہ نتیجہ نکالنالا ز مادرست ہے، اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں کہ انسان کی وہ تمام صفات جن کی پرورش کی گئی ہے جن کی ربوبیت کی گئی ہے وہ خدا کی صفات سے تعلق قائم کرنے کی خاطر کی گئی ہے اور ان صفات میں سب سے اہم اور سب سے بالا اور سب سے مقدم رحمانیت ہے۔پس سورہ فاتحہ کو جب پھر پڑھ کر دیکھیں تو آپ کو مضمون کی سمجھ آجائے گی۔اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ في الرَّحْمنِ الرَّحِيمِن ربوبیت کا مقصد کیا ہے تمام جہانوں کا رب ہے لیکن ربوبیت تمام جہانوں کو کہاں لے جا رہی ہے رحمان کی طرف۔وہ رحمان جو رحیم بھی ہے اور مالک یوم الدین بھی ہے۔اب اس وقت نہ وقت ہے نہ اس مضمون سے براہ راست یہ تعلق ہے کہ سورہ فاتحہ کی