خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 241 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 241

خطبات طاہر جلد 14 241 خطبہ جمعہ 7 اپریل 1995ء رستوں سے ہو جاتا ہے اور پھر دوشاخہ بن کے آگے بڑھتے ہیں لیکن ان کا ایک دوسرے سے مسلسل رابطہ رہنا چاہئے گویا رحم کے نئے تقاضے جو ہیں ان کو بھی انسان ہمیشہ پورا کرتا رہے۔یہ جو دوشاخہ بنتا ہے یہ شادی کے نتیجے میں ہوتا ہے۔شادی سے پہلے ایک لڑکی اپنے گھر میں اپنی ماں کے حقوق ادا کر رہی ہے اور رحم کے تعلق سے اس کا اپنے ماں باپ سے بھی تعلق قائم ہوتا ہے اور رھی تعلق سے مراد صرف ماں کا رشتہ نہیں بلکہ باپ کا رشتہ بھی ہے، احادیث سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے۔پس رحم کے ذریعے اس کا تعلق اپنے باپ سے ہے، اپنی ماں سے ہے، اپنے بھائیوں سے ہے، اپنی بہنوں سے ہے، اپنی پھوپھیوں سے ہے، اپنے چچاؤں سے ہے، اپنے ماموں سے ہے، یہ سارے رشتے اس کے چل رہے ہیں اور ان سب رشتوں کے حقوق ادا کر نا رحمان سے اپنے تعلق کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔جہاں آپ نے ان حقوق کو نظر انداز کیا، ان سے بے اعتنائی کی اور گستاخانہ رویہ اختیار کر کے آپ نے اپنے تعلق کو ان رشتوں سے کاٹا۔آپ کو خدا نے بہتر تو فیق دی ہے، ان میں سے کچھ غریب ہیں، کچھ کمزور ہیں، کچھ بے حیثیت ہیں، ان سے آپ نے کسی معنے میں بھی تکبر کا رویہ اختیار کیا تو یہ ساری وہ باتیں ہیں جو رحمان خدا سے آپ کا تعلق کاٹنے والی ہیں۔یہ معنی ہیں شاخ کے۔یہ رحمان سے ہر صفت رحم کی نکلی ہے اور اس کا دنیا میں سب سے اہم مظہر رحم مادر ہے جس سے آگے بچے پیدا ہوتے ہیں۔پس خدا کے رحمان نام سے خود کوئی بچہ پیدا نہیں ہوتا مگر وہ صفت رحمانیت پر تو کرتی ہے، اپناپر تو ڈالتی ہے اور ایک رحمان سے مشابہ وجود یعنی ماں پیدا ہو جاتی ہے۔تو اس کے رحم سے جو تعلق کا تا ہے گویا وہ خدا سے تعلق کاٹ لیتا ہے۔یہ ایک مضمون ہے جو ایک سیدھے رستے پر رواں ہے اس میں کوئی اشتباہ نہیں۔آگے جا کر اس لڑکے یا اس لڑکی کی شادی ہو جاتی ہے۔اگر لڑکے کی شادی ہوئی ہے تو ایک بیوی جو کسی کی بیٹی ہے اس کے گھر میں آتی ہے اور وہ بیوی اپنے سارے رحمی رشتوں کو ساتھ لے کر آتی ہے ان کو چھوڑ کر نہیں آتی اور یہاں دو رحموں کے پیوست ہو جاتے ہیں۔ایک لڑکے کے ماں باپ کے رحمی تعلقات دوسرے لڑکی کے ماں باپ کے رحمی تعلقات اور وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ Bondage اختیار کر لیتے ہیں۔اس کے نتیجے میں ذمہ داریاں دگنی ہو جاتی ہیں۔صلى الله یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کی وہ آیات آنحضرت ﷺ نے اختیار فرما ئیں جہاں خصوصیت سے رحمی رشتے کا بھی ذکر ہے اور تقویٰ کی تکرار موجود ہے چار آیتوں میں سے دو ایسی ہیں جن میں دو