خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 237
خطبات طاہر جلد 14 علاوه۔237 خطبہ جمعہ 7 / اپریل 1995ء ہ پھیلتے بھی رہے چنانچہ اب ایسی فضا پیدا ہوگئی ہے کہ احمدیت کو اسلام کی نمائندگی میں ایک مستقل مقام مل چکا ہے۔پس اللہ کے فضل سے یہ ہمارے جو رضا کارواقفین زندگی ہیں انہوں نے بھی بڑے بڑے کارنامے اس دور میں سرانجام دیئے ہیں اللہ ان سب کا حامی وناصر ہو، ان کے کاموں میں برکت دے اور بہت تیزی کے ساتھ ہم وہاں عیسائیوں کو مسلمان بنانے میں کامیاب ہو جائیں۔یہ دعا ہے اس کے ساتھ میں آپ سب کی طرف سے اور اپنی طرف سے حاضرین اجلاس کو محبت بھر اسلام پہنچا تا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ دنیا بھر کے احمدیوں کی دعائیں بھی اور ہر ایسی صورت میں کہ ان کو مدد کی ضرورت ہو ان کی مدد بھی انشاء اللہ آپ کے شاملِ حال رہے گی۔یہ آیت کریمہ جو میں نے پڑھی تھی اس کا تشریح والا ترجمہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں یہ ہے کہ خدا کے تمام کامل نام اسی سے مخصوص ہیں اور ان میں شرکت غیر کی جائز نہیں۔سو خدا کو انہی ناموں سے پکارو جو بلا شرکت غیرے ہیں یعنی نہ مخلوقات ارضی و سماوی کے نام خدا کے لئے وضع کرو اور نہ خدا کے نام مخلوق چیزوں پر اطلاق کرو اور ان لوگوں سے جدا ر ہو جو خدا کے ناموں میں شرکتِ غیر جائز رکھتے ہیں۔يُلْحِدُونَ فِي اسْمَابِہ کا ترجمہ یہ فرمایا گیا ہے کہ وہ لوگ جو خدا کے ناموں میں شرکتِ غیر جائز رکھتے ہیں عنقریب وہ اپنے کاموں کا بدلہ پائیں گئے ( براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ: 437،436) یہ جو اقتباس ہے یہ اس مسئلے کو سمجھنے میں مزید حمد ہے جس کا ذکر میں نے پچھلے خطبے میں کیا تھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نزدیک اللہ کا نام مشتق نہیں ہے یعنی کسی اور نام سے نہیں نکلا بلکہ ہمیشہ سے یہی نام اللہ تعالیٰ کا ہے اور اس کا اگلا قدم یہ ہے کہ اس کی تمام صفات بھی ہمیشہ سے اسی کی ہیں اور وہ خود مشتق نہیں ہے۔یہ ایک بہت ہی عظیم الشان انکشاف ہے اور اس کی روشنی میں جب ہم صلى حقیقت پر غور کرتے ہیں اور حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کی روشنی میں اس مضمون کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ایک نئے رنگ میں یہ مضمون ہمارے سامنے ابھرتا اور روشن ہوتا ہے۔اول بات تو یہ ہے کہ اللہ اگر ہمیشہ سے ایک نام ہے اور کسی اور نام سے نہیں نکلا ہوا تو اس کی صفات اگر دوسرے مخلوق ناموں سے نکلی ہوں تو کیا وہ بعد میں جمع ہوئیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود