خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 234 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 234

خطبات طاہر جلد 14 234 خطبہ جمعہ 7 اپریل 1995ء اب جتنے بھی مساجد کے نام رکھے جا رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے نام پر ہی ہیں یا اللہ کے اسماء پر ہیں۔پس اس مضمون کا بھی جو پہلا مضمون بیان ہورہا ہے اس کے ساتھ ایک ذاتی تعلق بن جاتا ہے یعنی آج کریم نام کی مسجد کا جو اللہ کے کریم نام کی طرف منسوب ہو رہی ہے اس کا افتتاح ہو رہا ہے۔یہ جو ملک ہے اس کا حدود اربعہ یہ ہے کہ اس کے ایک طرف انڈو نیشی واقع ہے اور تھائی لینڈ اس کے قریب ہے آسٹریلیا اس کے جنوب میں ہے۔آسٹریلیا کے شمال سے قریب ہے یہ جزیرہ بلکہ بہت سے سینکڑوں جزائر پر مشتمل ایک ملک ہے اور مشرق میں ملائشیا ہے اور ملائشیا بھی بہت سے جزائر پر مشتمل ہے۔اس جزیرے میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے فضل سے 1987ء میں جماعت کا قیام عمل میں آیا پھر غلطی سے جزیرہ کہہ دیا ہے جزائر پر مشتمل اس ملک میں سب سے پہلے 1987ء میں جماعت کا قیام عمل میں آیا، جو ایک رضا کار مخلص واقف کے ذریعے ہوا یعنی محمد اکرم صاحب احمدی۔ان کو یونائٹیڈ نیشنز کے ذریعہ وہاں کام ملا تھا اور مجھ سے مل کر یہ عہد کر کے گئے تھے کہ وہاں ضرور جماعت کو قائم کریں گے۔اگر چہ وہاں رہنے کے حالات بہت ہی مشکل تھے لیکن خالصہ اس نیت کے ساتھ کہ جب تک جماعت قائم نہ ہو اور مسجد تعمیر نہ ہو جائے یہ وہاں سے نہیں آئیں گے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے جو Contracts کی مدت تھی وہ بھی بڑھا دی اور اب اللہ کے فضل کے ساتھ یہ سارے کام اب پایہ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں۔اس مسجد کے آغاز کے لئے میں نے اپنا نمائندہ رفیق چانن صاحب کو بنایا ہے جو تھائی لینڈ سے وہاں پہنچے ہیں۔رفیق چانن صاحب ہمارے Swiss احمدی ہیں۔اللہ تعالی کے فضل کے ساتھ ان کو اپنی زندگی کے اس دور میں بہت تاریخی خدمات کی توفیق مل رہی ہے۔تھائی لینڈ میں بھی اور اردگرد کے علاقوں میں بھی ایسے ملکوں میں جہاں احمدیت کا نام تک لوگ نہیں جانتے تھے وہاں ان کو خدا کے فضل کے ساتھ انڈونیشیا کے مبلغین اور دوسرے رضا کاروں کی مدد سے جماعتیں قائم کرنے کی توفیق مل گئی ہے اور بہت ٹھوس کام اس علاقے میں ہو رہا ہے۔اس لئے میں نے ان کو اپنے نمائندے کے طور پر وہاں مسجد کے افتتاح کے لئے بھیجا ہے۔اس کے علاوہ بھی انڈونیشا سے اور اردگرد کے ممالک سے بہت سے مخلصین شرکت کے لئے وہاں آج جمع ہوئے ہیں۔یہ ایک ایسا ملک ہے جس پر عیسائیت کا بہت بھاری غلبہ ہے اور ایک عرصے تک عیسائیت