خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 226
خطبات طاہر جلد 14 226 خطبہ جمعہ 31 / مارچ 1995ء نتیجے میں ان کا مالی نظام تقویت پاتا ہے کیونکہ اس کے معابعد پھر مالی نظام کا ذکر فرمایا ہے اور قربانیوں کا ذکر فرمایا ہے۔پس دو باتیں اس سے واضح ہوئیں کہ عام مشورے ان کے جاری رہتے ہیں عادت بن چکی ہے اور دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ مالی معاملات میں وہ اجتماعی غور بھی کرتے ہیں۔شُوری بَيْنَهُمْ میں اجتماعیت کا بھی مضمون ہے۔اجتماعی غور کرتے ہیں اور اس کے بعد پھر فیصلے کرتے ہیں۔پس تمام دنیا میں جو مالی نظام جاری ہے بعینہ اسی آیت کریمہ کی ہدایت کے مطابق ہے ایک ایک پیسہ بجٹ کا با قاعدہ خدمت کرنے والے، چندہ دینے والوں کے مشورے کے مطابق خرچ ہوتا ہے اور خلیفہ وقت جو فیصلے کرتا ہے اس کو اس عمومی مشورے کی تقویت حاصل ہوتی ہے اور بہت سے ایسے معاملات ہیں جن میں خلیفہ وقت کو جماعت پوری طرح اپنی طرف سے نہ صرف یہ اختیار دیتی ہے بلکہ اختیار تو خدا نے دیا ہوا ہے اس کو بلکہ اس اختیار میں تقویت دینے کی خاطر اور مزید اعتماد پیدا کرنے کی خاطر کہتی ہے جو آپ کا فیصلہ وہ ہمیں منظور ہے۔چنانچہ تمام جماعت کی تاریخ میں ہمیشہ جب بھی آپ بجٹ کے معاملات پر غور کرتے ہوئے جماعت کو پاتے ہیں آخری نتیجہ ہمیشہ یہی نکلا ہے۔بعض جگہ پوری طرح فیصلے نہیں کر سکے، بعض جگہ فیصلے ہوئے اور اختلاف ہوئے ، بعض دفعہ شاذ کے طور پر وقت کے خلیفہ نے اکثریت کے مشورے کو رد کر دیا۔ایک بھی آواز ایسی نہیں اٹھی جس نے یہ شکوہ کیا ہو یا بے اطمینانی کا اظہار کیا ہو۔بالا تفاق سب نے کہا جو فیصلہ آپ کا وہی ہمارا فیصلہ ہے اور بعد میں جو حالات ظاہر ہوئے انہوں نے ثابت کر دیا کہ بلا استثناء ہمیشہ خلیفہ کا وہ فیصلہ درست ثابت ہوا جوا کثریت کے برعکس تھا لیکن ایسا ہوا کم کم ہے اور مالی معاملات میں بھی جتنا اعتماد جماعت خلیفہ وقت پر کرتی ہے اتنا کسی اور شخص پر نہیں کرتی ، نہ کر سکتی ہے۔اس لئے حضرت مصلح موعودؓ نے اس معاملے کو دلی تعلق کے طور پر بیان فرمایا۔فرمایا دراصل خلیفہ وقت کو جو اختیار ہے اس آیت کی روشنی میں، اس میں ایک گہری حکمت یہ بھی ہے کہ خلیفہ وقت وہ ایک ہی وجود ہے جس کے ساتھ ساری جماعت کا ایک قلبی تعلق ہے اور قلبی تعلق اتنا گہرا ہے کہ جیسے بچے کا باپ سے ہو۔آپ نے فرمایا شوری بَيْنَهُمْ کی ایک مثال تو ہے کہ وہ بھائی بھائی آپس