خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 220
خطبات طاہر جلد 14 220 خطبہ جمعہ 31 / مارچ 1995ء ہے، ہوش آگئی ہے کہ کیا ہورہا ہے۔روتے روتے گریہ وزاری کرتے ہوئے اس طرح قربانیوں کے او پر لیکے ہیں کہ نہیں کہا جاسکتا کہ قربانیوں کی درد کی کراہیں اونچی تھیں یا ان کا شور زیادہ تھا۔یقیناً ان کی گریہ وزاری نے قربانیوں کی کراہوں کو بھی دبا دیا تھا۔اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ اگر اس میدان میں شور تھا تو ان صحابہ کے اندرونی طور پر ذبح ہونے کا شور تھا۔پس یہ میں اس لئے وضاحت کر رہا ہوں کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ اس واقع کو نافرمانی کی فہرستوں میں شمار کرنا چاہئے یا اس عرب جہالت کی طرف اسے منسوب کرنا چاہئے جس میں مشورے کو رد کرنے کے نتیجے میں بڑے سخت رد عمل ہوا کرتے تھے اور اس کے سوا کوئی واقعہ نہیں کہ آنحضرت ﷺ نے مشورہ کلینتہ قبول کیا ہو یا جزوی طور پر قبول کیا ہو کبھی کسی ایک صحابی نے بھی اس پر کسی قسم کا کوئی اعتراض کیا ہو۔تو فَإِذَا عَزَمْتَ میں جو حق محمد رسول اللہ ﷺ کو دیا گیا تھا۔وہ ہمیشہ کلیہ محمد رسول اللہ ﷺ ہی کے ہاتھ میں رہا اور آپ ہی پر در حقیقت خدا نے اعتماد فرمایا ہے کہ تو اس قوم کا مرکزی نقطہ ہے، تیری فراست پر اعتماد کرتا ہوں۔مشورہ ضرور کر کیونکہ انسان کی صلاحیتوں کو چمکاتا ہے اور کئی قسم کی ایسی کوتاہیوں سے انسان کو بچالیتا ہے۔جو بشری کمزوریوں سے تعلق رکھتی ہیں۔پس یہ جو مضمون ہے مشورہ کا اور خدا پر توکل کرنے والا یعنی عَزَمتَ والا مضمون اس کا پہلے مضمون سے بھی ایک تعلق ہے۔فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرُ لَهُمُ یہ لوگ جس طرح غلطیاں کرتے ہیں، کمزوری دکھاتے ہیں تو ان سے صرف نظر فرما اور ان کے لئے بخشش طلب کر ، میں تجھ سے یہ سلوک کروں گا کہ تیرے فیصلوں کی حفاظت کروں گا اور کوئی ایسا تو فیصلہ نہیں کرے گا جس پر تجھے بخشش کی ضرورت ہی پڑے، اللہ تیری حفاظت فرمائے گا کیونکہ تو تو دوسروں کی کوتاہیوں کے لئے مجسم بخشش کا سوال بن چکا ہے تو تیرے دائرے میں میرا یہ فیصلہ ہے کہ تو جو بھی فیصلہ کرے گا وہ میرا فیصلہ ہوگا اور میں اس کی پشت پر کھڑا ہو جاؤں گا اور اس کو سچا ثابت کر دکھاؤں گا۔فَتَوَكَّلُ عَلَى اللهِ پس اللہ پر توکل کروانَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكَّلِينَ یقینا اللہ تعالیٰ تو کل کرنے والوں سے بہت محبت رکھتا ہے۔مجلس شوری کا جو نظام جماعت احمدیہ میں اس طریق پر رائج ہے جو آج کل ہم دیکھ رہے ہیں اور اس کا آغاز دراصل حضرت مصلح موعودؓ نے 1922ء میں کیا۔1922ء میں پہلی بار با قاعدہ