خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 219 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 219

خطبات طاہر جلد 14 219 خطبہ جمعہ 31 مارچ 1995ء صلى الله کیا جائے پھر حج کا موسم آجائے تو حج بھی کریں اور پھر واپس آئیں۔ تو صحابہ اس قدر اپنے مشورہ پر مصر تھے کہ جب آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ اٹھو اور اپنی قربانیاں یہیں ذبح کر دو۔ تو سارے صحابہ کی تاریخ میں ایک ہی صرف واقعہ ہے کہ اس پر فوراً لبیک نہیں کہا اور مشورہ جو ہے یہاں ، میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اہل تقویٰ جو بہت بلند مقام تک پہنچائے گئے تھے ان کو مشورہ رد کرنے کے نتیجے میں یہ صدمہ نہیں پہنچا تھا۔ یہ عرب مزاج نہیں ہے جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کہ مشورہ رد کر دو تو غصہ آجائے ۔ اس لئے صحابہ کی شان میں کوئی غلط تصور نہ ہو شان میں کوئی غلط تصور نہ باندھیں۔ یہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے عشق صلى الله صلى الله میں اور ایمان کے اس تصور کے نتیجے میں ان سے یہ حرکت ہوئی کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو جب خدا نے بتا دیا ہے تو وہ خود ہی فیصلہ فرمائے گا اور یہ ہو نہیں سکتا کہ حج نہ ہو اور اگر ہم نے حج کئے بغیر واپسی کی تو دشمن محمد رسول اللہ علیہ پر ہنسے گا اور آپ پر باتیں بنائے گا۔ صلى الله میں یہ سمجھتا ہوں کہ سو فیصدی ان کا اس وقت مختل ہو جانا اور مخبوط الحواس ہو جانا اس عشق کی ایک بڑھی ہوئی صورت کی وجہ سے تھا جس میں وہ توازن نہیں تھا جو محمد رسول اللہ ﷺ کے اندر تھا۔ پس آپ نے جب دیکھا تو حیران رہ گئے کہ کبھی ایسا واقعہ نہیں گزرا تھا کہ کسی ایک صحابی نے بھی آپ کے حکم سے روگردانی کی ہو اور یہاں پوری صحابہ کی جماعت ہے۔ عظیم کبیر صحابہؓ اپنی جانیں ، خون چھڑ کنے والے، جان فدا کرنے والے سب ایسے جیسے فالج ہو گیا ہو و ہیں بیٹھے رہ گئے اور ایسے جیسے فالج ہو رہے کوئی نہیں اٹھا۔ اس پر آپ اپنے خیمے میں آئے ۔ امہات المومنین میں سے ایک تھیں ان سے کہا کہ کیا ہو گیا ہے، میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں ۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ یہ نافرمان لوگ نہیں ہیں۔ صدمے کی ئے پھر صلى الله حالت سے ان کے دماغ مختل ہو چکے ہیں ۔ آپ جائیے اور اپنی قربانی کی گردن پر چھری پھیرے دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی کیا ۔اب یہاں بھی ایک مشورہ مانا گیا ہے۔ یہ مشورے کی باتیں ہو رہی ہیں ۔ ایک عورت کا مشورہ دیکھیں کتنا عظیم مشورہ ثابت ہوتا ہے اور ان صحابہؓ سے ہر نا فرمانی کا داغ دھونے والا مشورہ ثابت ہو جاتا ہے۔ ایک مشورہ ہے جو اجتماعی ہے جسے رد کیا جا رہا ہے اور اس رد ہونے کی وجہ سے وہ مشورہ ان پر ایک داغ ڈال دیتا ہے۔ ایک تنہا عورت کا مشورہ ہے جسے قبول کیا جا رہا ہے اور ان کے سارے داغ دھو دیتا ہے ۔ جب رسول اللہ ۔ اپنی چھری لے کر اپنی قربانی کی طرف بڑھے ہیں صحابہ کہتے ہیں یوں لگا جیسے اچانک آنکھ کھل گئی صلى الله