خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 17 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 17

خطبات طاہر جلد 14 17 خطبہ جمعہ 6 جنوری 1995ء برابر کا حصہ لیں گے لیکن عموماً یہی دیکھا گیا ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ یہ کیوں کہتا کہ تالیف کی خاطر ان پر خرچ بھی کرو یعنی آغاز میں یہ حال ہوتا ہے بعض دفعہ آنے والوں کا کہ ان کی دلداری کے لئے کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ہے۔جلسوں پر بلاتے ہیں تو کرایہ دے کر بلاتے ہیں پھر وہ وقت آتا ہے کہ وہ چندے لے کر اپنے جیب خرچ پر چندے دینے کے لئے آتے ہیں مگر آغاز میں کچھ قربانی لازم ہے اگر بغیر قربانی کے اسی حال پہ وہ ٹھنڈے ہو گئے تو پھر آپ کے لئے ان کو قربانی کے مزے دینا مشکل ہو جائے گا ان کو پتا ہی نہیں ہوگا کہ قربانی کا مزہ ہے کیا۔پس ان کو بھی وقف جدید میں شامل کریں۔اس ضمن میں میں یورپ کی جماعتوں اور مغرب کی جماعتوں سے خصوصاً یہ درخواست کرتا ہوں کہ ہر ماں باپ اپنی اولاد پر نظر رکھے اور جہاں وہ کمانے والے بنیں ان کو یہ تحریک کریں کہ پہلے ہفتے کی آمد وہ مسجدوں میں دیں اور یہ نیک روایت حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے سے قائم ہے اور جہاں تک میرے سے مشوروں کا تعلق ہے میں ہر ایک کو یہی بتا تا ہوں وہ کہتے ہیں ہمیں خدا نے برکت دی ہے کیا کریں۔میں کہتا ہوں پہلے تو پہلے ہفتے کی آمد مسجد کے لئے دے دو۔دوسرے فوری طور پر چندہ با قاعدہ دینا شروع کر دو۔سولہویں حصے کا حساب کر کے اگر زیادہ کی توفیق نہیں ہے تو یہ ضرور دو۔تو اللہ تعالیٰ جو فرماتا ہے تمہاری اولاد بھی فتنہ ہے تو یہ بھی ایک فتنے کا موقع ہوتا ہے۔اولا د خوشحال ہو گئی ہے ماں باپ سمجھتے ہیں ان کو کیوں چندوں میں ڈالیں خواہ مخواہ ، ہم جو دے رہے ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ بھی ہار گئے۔آپ کا دیا ہوا بھی گیا اگر چندے کا شوق ہی نہیں اور سمجھتے ہی نہیں کہ باعث سعادت ہے تو اولاد کو بھی آپ نہیں کریں گے اور آپ کے چندے اوپر بھی ایک اور روشنی پڑ جائے گی جو ایک غلط روشنی ہوگی یعنی آپ پہلے دیتے تھے مصیبت سمجھ کے دیتے تھے ، چٹی سمجھ کے دیتے تھے جو اولاد کو چٹی سے بچارہے ہیں۔پس فتنوں کا مقابلہ کرنا ہے ہر فتنے کا موقع ایسا ہمارے سامنے آنا چاہیئے کہ ہم اس کو شکست دے کر خدا کی رضا کم کرنے کی بجائے اس کو بڑھاتے ہوئے آگے بڑھیں۔فی کس کے لحاظ سے بھی ہم نے موازنہ کیا ہے اور سوئٹزر لینڈ حسب سابق وقف جدید کے فی کس چندے میں اب بھی سب سے آگے ہے امریکہ نمبر دو ہے کوریا اور جاپان تیسرے نمبر پر ہیں اور بھیجیم اللہ کے فضل کے ساتھ چھوٹی جماعت ہونے کے باوجود بھی چوتھے نمبر پر آ گئی ہے۔حالانکہ مالی