خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 203
خطبات طاہر جلد 14 203 خطبہ جمعہ 24 مارچ 1995ء صلى الله محمد رسول الله عل اللہ ﷺ نے جہاں اسم اعظم کا ذکر فرمایا ہے وہاں ایک نام کے طور پر نہیں فرمایا بلکہ اللہ کی صفات بیان کر کے اسے اسم اعظم قرار دیا ہے ۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ کو اسم اعظم جن معنوں میں قرار رار دیتے ہیں وہ اس طرح باندھ دیئے جائیں کہ آپ کے اس کلام میں یہ موجود ہی نہیں کہ اللہ اسم اعظم ہے۔ فرمایا اللہ جو اسم اعظم ہے یہ معنی رکھتا ہے۔ ان سے الگ ہو کر وہ اسم اعظم نہیں ہے۔ چنانچہ وہ کیا معانی ہیں ان معانی میں تمام اسماء الہی آجاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اللہ اسم اعظم ہے جب تک ان صفات سے یا ان اسماء سے اس کا تعلق قائم ہو رہا ہو جو خدا تعالیٰ کے اسماء ہیں یا اس کی صفات ہیں اور جن جن اسماء کا اللہ کی ذات سے تعلق ہے ان اسماء کو پیش نظر رکھتے ہوئے متعلقہ صورتحال میں جو دعا کی جاتی ہے ان کے تقاضے پورے کرتے ہوئے وہ پوری ہو جاتی ہے، یہ ایک مضمون ہے جو اس ایک فقرے سے تو شاید اکثر کو سمجھ نہ آئے مگر اگر مجھے یاد آیا تو پھر میں مزید آگے جا کر اس کی تشریح کروں گا۔ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس عبارت کی تشریح ضروری ہے۔ ذات مستجمع جمیع صفات کا ملہ وہ ذات جس کے اندر ہر کامل صفت جمع ہو چکی ہے اور کوئی ایک بھی صفت ایسی نہیں جو کامل ہو اور اللہ کے نام کے اندر داخل نہ ہو۔ تو ایک اسم اعظم ایسا بیان کر دیا جس میں تمام اسماء شامل ہو گئے اور کوئی اسم اس کے تصور سے باہر نہیں رکھا لیکن ساتھ دوسری تعریف یہ فرمائی اور منزہ عن جميع رزائل اور وہ منزہ ہے، پاک ہے، ہر اس تصور سے جو رذیل اور کمینہ ہو، جس میں کوئی کسی قسم کا نقص بھی پایا جاتا ہو اس تصور کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ یعنی Perfection Personified جو درجہ کمال اپنی انتہاء کو پہنچا ہوا اگر ایک ذات بن جائے تو اس کا نام اللہ ہے اور اس پہلو سے وہ اسم اعظم بن جاتا ہے جس کے حوالے سے پھر دعا ئیں قبول ہوتی ہیں۔ پھر فرمایا اور بھی اس کے معانی ہیں جو اس میں بروقت داخل ہیں۔ اور معبود برحق ایسا معبود جو حق ہے اس کی عبادت جتنی بھی کی جائے وہ اس کو زیبا ہے، اس میں مبالغہ نہیں ہو سکتا اور برحق ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی شان کے مطابق سچی عبادت اس کی مقبول ہوگی اور کوئی جھوٹی عبادت اس کے ہاں مقبول نہیں ہو سکتی ۔ تو ایک وہ ذات ہے جس میں عبادت کو قبول کرنے کی صفات درجہ اتم تک پائی جاتی ہیں ۔ ہر قسم کی عبادت جتنی بھی چاہیں کریں