خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 204 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 204

خطبات طاہر جلد 14 204 خطبہ جمعہ 24 / مارچ 1995ء آپ جتنا چاہیں ماتھا نیکیں، جتنا چاہیں اپنے آپ کو ذلیل اور رسوا کریں، جو کچھ بھی آپ کر لیں اس کی معبودیت کے دائرے سے باہر نہیں جاسکتے۔ایسا عظیم معبود ہے کہ اس کے متعلق مبالغہ ہو ہی نہیں سکتا۔اور عبادت کرنے والے کی نسبت سے وہ معبود برحق ان معنوں میں ہوگا کہ کوئی جھوٹی بات تمہاری عبادت میں شامل نہ ہو کیونکہ وہ حق ہے۔کوئی تصنع نہ ہو، کوئی ریا کاری نہ ہو، کوئی نفسانی اس میں آلودگیاں شامل نہ ہوں، غرضیکہ پاک، خالص، للہ عبادت جو ہے وہ اس ذات کو پہنچتی ہے اس لئے وہ برحق ہے اور واحد لاشریک “ اور وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے یعنی کسی پہلو سے بھی اس کا کوئی شریک نہیں۔اور مبدء فیوض پر بولا جاتا ہے اور اس کی صفات کا ملہ تمام تر فیض رکھتی ہیں یعنی ان صفات میں سے ہر صفت کا فیض کسی دوسرے کو پہنچ سکتا ہے اور پہنچتا ہے یعنی کوئی ایسی صفت نہیں ہے جو بے فیض ہو۔اس ضمن میں مزید تشریح کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں: قرآن شریف کی اصطلاح میں اللہ اس ذات کامل کا نام ہے کہ جو معبود برحق اور متجمع جمیع صفات کا ملہ اور رذائل سے منزہ اور واحد لاشریک اور مبدء فیوض ہے یہ کہنے کے بعد فرماتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے اپنے کلام قرآن شریف میں اپنے نام اللہ کو دوسرے اسماء وصفات کا موصوف ٹھہرایا ہے ، یعنی جتنے بھی دوسرے اسماء قرآن کریم میں ہیں ان سب کا موصوف اللہ قرار دیا گیا ہے اور کسی اور صفت کو اللہ کا موصوف نہیں بنایا۔یعنی اگر آپ یہ کہیں کہ فلاں شخص اچھا ہے ، فلاں شخص ذہین ہے، فلاں شخص میں یہ بات ہے تو وہ شخص جو ہے جس کے اردگر دصفات گھوم رہی ہوں وہ شخص در اصل ان صفات کا مرکز ہے اور اس کا نام ان صفات کا نام بن جاتا ہے۔اس کو کہتے ہیں ذاتی نام مثلاً زید کے حوالے سے آپ کہیں کہ زید میں یہ خوبی ہے، زید میں وہ خوبی ہے تو وہ زید کی طرف منسوب ہوگی زیر اسم ہو گا مگر یہ نہیں آپ کہہ سکتے کہ رحمان زید ہے، شریف زید ہے یا کسی کی برائی کرنی ہو تو برا آدمی زید ہے۔اس لئے مفت اپنے موصوف کے گرد گھومتی ہے اور موصوف اپنی صفت کے گرد نہیں گھومتا۔یہ مضمون ہے جو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے اور یہ اسم ذات ہے اللہ اور اسم اعظم ہے مگر اگر صفات سے خالی ہو کر اسم اعظم ہو تو اس میں کچھ بھی حقیقت نہیں رہتی کیونکہ اسم نام ہے صفات کا۔کوئی اسم صفات سے عاری نہیں ہے اس لئے مشتق نہ ہونا اور بات ہے اور با معانی اور۔