خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 198 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 198

خطبات طاہر جلد 14 198 خطبہ جمعہ 24 / مارچ 1995ء فرمارہے ہیں۔اور اس پہلو سے بسم الله الرحمن الرحیم میں رب کا کوئی ذکر نہیں اور رحمان ہی ہے جس سے ہر چیز پھوٹی ہے اور وہ وجود جس سے وہ چیزیں وجود میں آئیں جس کی طاقت سے یا جس کی صفات کے جلوے سے جن چیزوں کا کوئی حق ہی نہ ہو ، جو عدم ہے اس کا کوئی حق نہیں ہے۔اگر کوئی حق بنتا ہے تو موجودات کا کچھ حق بنتا ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم تنگ آجاتے ہیں کہ ہمیں خدا نے کیوں پیدا کیا تو یہ جو مطالبہ ہے کہ ہمارا حق ہے ہمیں بتایا جائے اگر پیدا کرنا تھا تو ہمارا کوئی مقصد ہونا چاہئے یہ وجود میں آئے تو مطالبہ پیدا ہوتا ہے نا۔تو جو چیز موجودات میں سے ہو ہی نہ۔عدم کا کوئی حق ہی نہیں ہے اور وہ ذات جو عدم سے پیدا کرتی ہے وہ رحمان ہے ، یہ قرآن کریم سے ثابت ہے کیونکہ رحمان کا ایک مطلب ہے بن مانگے دینے والا اور یہ رحمان جو بن مانگے دینے والا ہے یہ بھی عام مادہ رحم سے ثابت نہیں ہے۔اللہ کے حوالے سے جب غور کرتے ہیں تو پھر وہ مضمون سمجھ آتا ہے ورنہ نہیں آسکتا۔اللہ بن مانگے دینے والا ہے اور رحم مادر میں بھی یہی معنے اسی حوالے سے پائے جاتے ہیں۔ماں بچہ پیدا کرتی ہے جبکہ پہلے اس کا کوئی وجود نہیں۔کوئی مطالبہ نہیں ہے اور رحم میں وہ پرورش پاتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے لفظ رحم جو یوٹرس کے اوپر اطلاق پاتا ہے ، جہاں جنین بنتا ہے اس کا تعلق رحمانیت سے جوڑ دیا ہے اور آنحضرت ﷺ نے کھل کر یہ مضمون بڑی وضاحت سے بیان فرمایا ہے کہ جو شخص رحم سے سے تعلق کاٹے گا یعنی رحمی رشتوں کا خیال نہیں رکھے گا اس کا رحمن خدا سے بھی تعلق کٹ جائے گا کیونکہ دونوں کا اصل ایک ہے۔تو بن مانگے دینے والا جو مضمون ہے وہ ماں کے حوالے سے کبھی کسی کو سمجھ نہیں آیا لیکن اللہ کے حوالے سے سمجھ آیا تو ماں کا مضمون سمجھ آ گیا۔اللہ بن مانگے دیتا ہے اور ماں تو کسی وجود سے پھر آگے بناتی ہے۔اس لئے بلا استحقاق کلیۂ عنایت نہیں کر سکتی کیونکہ وہ خود مجبور ہے کسی مادے کی کسی وجود کی لیکن اللہ تعالیٰ نے جب عدم سے انسان یا کائنات کو پیدا فرمایا ہے تو کلیڈ کوئی بھی کسی چیز کا استحقاق نہیں رکھتا تھا کیونکہ کوئی بھی کسی صورت میں موجود ہی نہیں تھا۔پس حضرت مسیح موعود نے پہلی خلق کو جو رحمان سے وجود میں آتی ہے ان معنوں میں بیان فرمایا " یعنی بلا استحقاق احسان والی رحمت وہ رحمت جو کسی حق کے نتیجے میں نازل نہیں ہوتی بلکہ محض احسان ہی احسان ہے اور ایمانی حالت کارحمان سے کیا