خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 185
خطبات طاہر جلد 14 185 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 1995ء میں موجود نہیں ہوگی۔یعنی اس کے لئے جو Event Horizon ہے جبکہ تمام صفات سے چیزیں عاری ہو جاتی ہیں۔تو جیسے مادی دنیا کا ایک بلیک ہول ہوتا ہے اسی طرح روحانی دنیا کا ایک بلیک ہول آنے والا ہے جس میں تمام مخلوقات ایک غشی کی حالت میں ہوں گی۔پھر جب خدا اپنے جلوے دکھائے گا تو جو اسرافیل کا صور پھونکنا ہے، دوسراصور، اس سے مراد یہ ہے کہ از سر نو صفات تقسیم ہوں گی اور از سرنو جو صفات تقسیم ہوں گی وہ آنکھیں بند کر کے ہر ایک کو اسی طرح واپس نہیں کر دی جائیں گی جیسے اس نے سنبھالی ہوئی تھیں وہ استحقاق پر ہوں گی۔جس نے حقیقۂ رب سے تعلق رکھا تھا تو اس وقت اس کو ربوبیت کی صفات عطا کی جائیں گی ، وہ کن معنوں میں ہیں اس کی تفصیل ہم نہیں جانتے۔مگر ایک مثال حضرت ابراہیم کی صورت میں ہمیں آنحضرت ﷺ نے سمجھائی ہے جس کا مطلب ہے کہ ربوبیت کی کچھ شکلیں وہاں ضرور جاری ہیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آپ نے جو روحانی دنیا کی سیر کی ہے اس میں یہ دیکھا کہ ابراہیم علیہ السلام بہت لمبے قد کے ہیں اور آپ کے سپرد ان سب بچوں کی تربیت ہے جو بلوغت کی عمر سے پہلے جبکہ شریعت ان پر نافذ نہیں ہوئی تھی اس سے پہلے دنیا سے چلے گئے۔ان کی تربیت کی کیا ضرورت ہے وہ تو معصوم ہیں۔اس میں حکمت یہ ہے که معصوم نہ صرف سزا کا مستحق نہیں ہوتا مگر جزا کا بھی مستحق نہیں ہوتا۔وہ معصومیت جو نا طاقتی کے نتیجے میں ہے اس معصومیت کی نہ جزاء نہ سزا۔تو وہ سزا جزا کے دور سے گزرنے کے نتیجے میں جو صلاحیتیں چمکتی ہیں اور جن سے قرب الہی گہرائی میں اتر کر نصیب ہونا شروع ہوتا ہے ، وہ تعلق معصومیت کی حالت میں نہیں ہوتا یعنی وہ معصومیت جو بلوغت سے پہلے کی معصومیت ہے۔اس کے متعلق فرمایا کہ وہ کمی جو رہ گئی تھی ان کے نشو ونما میں ، قیامت کے بعد جب فیصلے ہو چکے ہوں گے، ابراہیم علیہ السلام کے سپر دیعنی ابراہیمی طاقتیں جن سے طیور کی آپ نے پرورش فرمائی تھی وہ طاقتیں ہیں ابراہیم علیہ السلام کی جو اس وقت جلوہ گر ہوں گی اور ان بچوں کی روحوں کی تربیت کریں گے۔اگر کوئی یہ کہے کہ وہاں تربیت کا مضمون ہی کوئی نہیں رہتا تو میں اس کو بتاتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر اور کون سمجھتا ہے۔باقی کیسے مربی ہوں گے ہم نہیں جانتے مگر یہ میں جانتا ہوں کہ ابراہیم مربی ہیں تو محمد رسول اللہ ضرور مربی ہوں گے کیونکہ وہ سب مربیوں سے افضل ہیں سب سے زیادہ ربوبیت