خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 184
خطبات طاہر جلد 14 184 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 1995ء سائنس دانوں کو سمجھانے کی خاطر میں بلیک ہول Black Hole کی مثال ان کے سامنے رکھ سکتا ہوں۔جو Physicist بلیک ہول کا تصور پیش کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں ، وہ یہ خوب جانتے ہیں کہ دراصل بلیک ہول نام ہے صفات سے عاری ہونے کا اور موت کی حقیقی تعریف یہی ہے کہ صفات سے عاری ہو جائے۔اگر صفات سے عاری ہو جائے چیز تو وہ عدم ہے۔پھر وہ وقت کہ خدا کے سوا سب کچھ عدم ہو جائے گا، کسی کی کوئی ذاتی صفت باقی نہیں رہے گی اور اس وقت اگر کسی بندے پر رحم کرتے ہوئے خاص محبت کے نتیجے میں وہ استثنائی سلوک فرمائے گا تو اس حد تک وہ خدا کی صفات کا جلوہ گر رہے گا جس حد تک اللہ نے اس کو امتیاز بخشا ہے، اس سے زیادہ کسی کی کوئی ذاتی صفت باقی نہیں رہے گی یعنی خدا کی دی ہوئی صفت بھی واپس اللہ کی طرف لوٹ جائے گی۔تو مالک دراصل اللہ ہی کا دوسرا نام ہے ان معنوں میں کہ اللہ سے تعارف کا آغاز فرمایا اور اللہ کا دراصل مطلب ہے الا لہ کامل معبود، ایک ہی معبود جس کے سوا اور کچھ نہیں۔یہی ہے اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں۔یہ جو بحث ہے اس میں کچھ میں مزید حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے اور بعض دوسروں کے حوالے سے آپ کو سمجھاؤں گا۔سر دست یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اللہ میں مالکیت کا تصور بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔پس اللہ سے ذکر شروع کر کے جب ”رب فرمایا تو اس میں بہت سے لوگ رب بنتے ہوئے دکھائی دیئے جو واقعہ ربوبیت کرتے ہیں۔بعض امیر قومیں غریب قوموں کی ربوبیت کرتی ہیں۔مائیں اپنے بچوں کی ربوبیت کرتی ہیں۔باپ اپنی بیویوں اور بچوں کی ربوبیت کرتے ہیں۔دوست عزیز اپنے اقارب کی ربوبیت کرتے ہیں۔ربوبیت کا نظام تو ساری کائنات میں جاری ہے۔ایک زمیندار ربوبیت کر رہا ہے جب آپ کے لئے وہ فصلیں اگاتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ وہ ہے جو رب العلمین ہے وہ سب جہانوں کا رب ہے درحقیقت وہی رب ہے اور تمہیں وہم ہے کہ تم بھی ربوبیت کی کچھ مثالیں اپنے اندر رکھتے ہو۔رحمان بھی وہی ہے اور رحیم بھی وہی ہے۔یہ تمام باتیں کھل کر روز روشن کی طرح اس وقت تمہیں سمجھ آئیں گی جب يَوْمِ الدِّينِ آئے گا۔جب اللہ کے سوا کوئی مالک نہیں رہے گا۔مالک پہلے بھی نہیں مگر اب میں دوسرے يَوْمِ الدین کی بات کر رہا ہوں۔روز مرہ کا یومِ الدِّینِ ہے وہ اگر تم نہیں دیکھ سکتے نہیں سمجھ سکتے تو ایک ایسا وقت آنے والا ہے کہ نہ اس کے سوا کوئی رب رہے گا اور ربوبیت کی ادنی سی بھی صفت اس