خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 181 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 181

خطبات طاہر جلد 14 181 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 1995ء دراصل اس آیت پر غور سے آپ کو سمجھ آئے گی کہ ملک اللہ ہی کا ایک دوسرا نام ہے۔اللہ ہی سے تعارف شروع ہوا ہے۔اَلْحَمدُ لِله اور ملک پر یہ تعارف کمال کو پہنچا ہے۔جس طرح قرآن کریم جیسے آغاز فرماتا ہے اس مضمون پر انجام فرماتا ہے۔اسی طرح سورۃ فاتحہ کی یہ پہلی تعارفی آیت جس مضمون سے بات کو شروع کرتی ہے۔اس مضمون کو بدرجہ کمال وضاحت کے ساتھ پیش کرنے کے بعد اسی پر اختتام فرماتی ہے۔اللہ کا کیا مطلب ہے اس مضمون کی طرف میں اس کے بعد آؤں گا پھر بات اور بھی زیادہ کھل جائے گی۔لیکن یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس ملِكِ يَوْمِ الدین کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صرف آخرت کا دن، مرنے کے بعد ایک ایسا زمانہ آئے گا جبکہ وہ مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ ہوگا۔اس دنیا میں مسلسل یہ يَوْمِ الدِّینِ بعض انسانوں کے لئے بعض قوموں کے لئے آتا چلا جاتا ہے۔اور کبھی بھی زمانہ يَوْمِ الدِّینِ سے خالی نہیں ہے۔ایک انسان جب موت کے کنارے پر پہنچتا ہے تو اس وقت وہ اس کا يَوْمِ الدِّينِ آجاتا ہے۔يَوْمِ الدِّينِ کا مطلب ہے۔وہ ان صفات سے عاری ہو جاتا ہے، ہو رہا ہے جو صفات اس نے اللہ تعالیٰ سے حاصل کی تھیں اور اپنی ذاتی بنا بیٹھا تھا۔کلیہ ان صفات کو اس سے جو واپس لینے کا وقت آ رہا ہے یہ اس کا يَوْمِ الدِّینِ ہے۔اور وَالْأَمْرُ يَوْمَبِذٍ لِلهِ یعنی یہ مضمون که امر سارا اللہ ہی کے لئے ہے یہ اس وقت بہت کھل کر ہمارے سامنے آتا ہے۔پھر قوموں کے عروج اور تنزل کی تاریخ کو دیکھیں ان کا يَوْمِ الدِّینِ ہماری آنکھوں کے سامنے تاریخ میں لکھا ہوا صاف موجود ہے کہ کس قوم کا یومِ الدین کس وقت آیا اور کس وقت خدا کی پکڑ نے ان کو اپنی تمام طاقتوں سے عاری کر دیا۔وہ نہتی ہو کر پھر اپنی اس ادبی حالت کی طرف لوٹ گئیں جہاں سے اللہ نے ان کو ترقی دی تھی۔تو کوئی امرکسی کے لئے ذاتی امر نہیں ہے، کوئی ملکیت اس کی ذاتی ملکیت نہیں ہے۔پھر جب انسان مرتا ہے تو اپنی جائیداد کا مالک کیسے رہتا ہے۔اس کو یوم الدین تو آ گیا۔اگر ظاہری جائیداد کے معنے لئے جائیں صفات کے علاوہ وہ بھی سب کچھ اس کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے اس کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا تو ہماری ی ملکیتیں بھی عارضی ہیں ، ہماری صفات بھی عارضی ہیں اور يَوْمِ الدِّینِ خدا کا ہر آن ہرلحہ جاری وساری ہے اور اس کو اگر آنکھیں کھول کر آپ غور سے دیکھیں تو کائنات کے تمام