خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 180 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 180

خطبات طاہر جلد 14 180 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 1995ء فرماتا ہے جو اس کی ذات میں ہمیشہ سے صفات کے طور پر موجود ہے۔لیکن مخلوق کی طلب ،ان کے حالات ان کی قدروں کے مطابق، ان کے ظرف کے مطابق، جب وہ جلوے دکھاتا ہے تو اس کی ذات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔گویا مخلوق کی تبدیلیاں خدا تعالیٰ کے تعلق میں مختلف صورتیں اختیار کرتی رہتیں ہے۔کوئی تبدیلی منفی صورت میں جاری ہیں اور وہ تعلق توڑنے کا موجب بنتی چلی جاتی ہے، کوئی تبدیلیاں مثبت سمت میں جاری ہیں اور وہ تعلق بڑھانے کا مطالبہ کرتی ہیں۔تو اللہ دونوں سے برابر جلوہ گری میں اس بات کو پیش نظر رکھتا ہے یعنی بیک وقت وہ گرتے ہوئے لوگوں کے ساتھ اپنا تعلق گراتا چلا جاتا ہے۔یہ بھی اس کا ایک جلوہ ہے اور بیک وقت ، اسی وقت میں جو تعلق بڑھانے کا استحقاق رکھتے ہیں ان سے تعلق بڑھاتا چلا جاتا ہے۔تو زمانہ ان معنوں میں نہیں پایا جاتا جن معنوں میں مخلوق میں پایا جاتا ہے۔بیک وقت ایک انسان یہ نہیں ہوسکتا کہ اوپر ہی چڑھ رہا ہو، نیچے بھی گر رہا ہو۔یہ دو ایسی حالتیں ہیں جو حادث حالتیں کہلاتی ہیں اور ان کا اجتماع انہیں میں ممکن ہے جن میں زمانہ پایا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کی ذات جو زمانوں سے پاک ہے ان معنوں میں تو پاک ہے جو میں نے بیان کی ہے۔مگر زمانے کے بعض معنے مخلوق کے حوالے سے اس میں ملیں گے آج ایک تعلق ہے کل دوسرا تعلق ہے۔پرسوں تیسر اتعلق ہے مگر صفات وہی ہیں اور تعلق کے بدلنے کی وجہ مخلوق کی تبدیلی ہے نہ کہ خالق کی تبدیلی۔تو ایک یہ مضمون ہے جس کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ کو زمانے سے کیوں باندھا گیا ہے اور اس کا کیا مطلب ہے۔اول مطلب تو اس کا وہی ہے جو قرآن نے پیش کیا ہے اور اسی مطلب میں دوسرے مطلب بھی آجاتے ہیں ثُمَّ ما ادريكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَيْئًا وَالْأَمْرُ يَوْمَيذٍ لِلهِ ( الانفطار 20،19) وہ وقت یا وہ دور جبکہ لا تملك نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَيْئًا کوئی ذات کسی چیز کی بھی کسی جان کے لئے بھی اپنے لئے یا غیر کے لئے مالک نہیں رہے گی وَ الْاَمْرُ يَوْمَبِذٍ لِلهِ - الامر میں کلہ کا مضمون شامل ہے۔تمام تر فیصلے کی طاقتیں اور ملک کی طاقتیں خدا کی طرف لوٹ جائیں گی اور کسی اور میں نہیں پائی جائیں گی۔اس مضمون میں ایک زمانہ بظاہر پایا جاتا ہے۔مگر اس پر جب آپ مزید گہرا غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ ان معنوں میں زمانہ نہیں جو تبدیلی ذات کا مظہر ہو۔