خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 177 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 177

خطبات طاہر جلد 14 177 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 1995ء خدا کی ذات کا ادراک نہیں کر سکتیں اور اس ضمن میں انسانی کوششوں کی کچھ مثالیں دین لا زم تھا اور ان میں سے بھی میں نے وہ مثالیں چنیں جو دنیا کے چوٹی کے فلسفے ، جن کے ناموں کا تمام دنیا میں شہرہ ہے اور کوئی دنیا کا حصہ نہیں جہاں ان کا نام نہ پہنچا ہو اور زمانے گزر گئے مگر ان کی عقل و دانش اور منطقی جو صلاحیتیں تھیں ان کو کسی نے ناقص نہیں دیکھا، ناقص نہیں پایا ، بلکہ آج بھی ، آج کل کے فلسفے بھی ان کی اتباع کرتے ہیں اور بہت سے موجودہ دور کے فلسفے انہیں کے فلسفوں کی بنیاد پر قائم ہوئے ہیں۔اشتراکیت کا فلسفہ بڑی وضاحت کے ساتھ ارسطو کے مضامین میں ملتا ہے اور افلاطون اور ارسطو دونوں ہی دراصل ایک ہی سلسلے کی دو کڑیاں ہیں۔افلاطون جن باتوں کا آغاز کرتا ہے ارسطو ان کو آگے بڑھا دیتا ہے اور پھر زیادہ گہری چمک پیدا کرتا ہے۔زیادہ واضح استدلال کے ساتھ ان کے اندر فرق پیدا کرتا ہے۔یہ باتیں ان کی طرف منسوب کر کے خدا تعالیٰ کے تعلق میں مجھے لازماً کہنا تھیں ورنہ آپ کو نہ سمجھ آتی کہ لا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ کا مطلب کیا ہے؟ پس اتنی بات تو آپ کو سمجھ آگئی اور یہی کافی ہے۔ارسطو اور افلاطون اور اس جیسوں کے فلسفے سمجھ آئیں یا نہ آئیں آپ نے کچھ نہیں کھویا ، اگر یہ بات جان جائیں کہ جو کچھ انہوں نے پانے کی کوشش کی ، اپنی ذات کی کوشش سے وہ ایسی نہیں کہ اسے نہ سمجھ کر آپ نے کچھ کھودیا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں کوئی بھی غور ممکن نہیں جب تک خدا اس کی خود مدد نہ فرمائے اور اتنا ہی اللہ تعالیٰ کی ذات کی فہم انسان کو عطا ہو سکتی ہے جس حد تک اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے اور اجازت دے اس سے زیادہ ممکن نہیں ہے۔پس اب جب آپ سوچیں کہ اس خطبے میں میں کیا باتیں کہہ رہا تھا۔جس خدا کے تصور تک ارسطو پہنچا ہے بالآخر وہ ایک فلسفہ ہی ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ایک منطقی تصور ہے جس کے ساتھ کوئی ذاتی تعلق قائم نہیں ہوتا کوئی تخلیقی تعلق قائم نہیں ہوتا، کوئی شکر کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا، انسان اس کے سامنے جھکتا نہیں ہے اور وہ تصور وہیں ٹھہر جاتا ہے آگے مسائل کو حل نہیں کرتا۔گویا ایک مسئلہ ہے جسے حل کیا گیا ہے۔مگر قرآن جس خدا کا ذکر کرتا ہے وہ تمام مسائل کا حل کرنے والا ہے۔وہ ایسی خوبیوں کا مالک ہے کہ اس سے بے اختیار محبت ہونا ایک طبعی امر ہے اور تمام فیض اسی کا جاری ہے اور اس سے تعلق کے نتیجے میں اس فیض کو بڑھایا جا سکتا ہے۔پس وہ خدا جس کو قرآن نے ظاہر کیا ہے یعنی اللہ نے اپنے وجود کا قرآن میں تعارف فرمایا