خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 176 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 176

خطبات طاہر جلد 14 176 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 1995ء نہیں وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ اور سنتا بھی ہے اور دیکھتا بھی ہے اور بہت سننے والا اور بہت دیکھنے والا ہے۔اس سے پہلے یہ بیان فرما کر یہ بھی ظاہر فرما دیا کہ تمہاری سماعت کی طاقتیں اور طرح کی ہیں اللہ تعالیٰ کی سماعت کی طاقتیں اور طرح کی ہیں یہ جو تم دیکھنا کہتے ہو وہ اور چیز ہے۔جسے خدا د یکھنا کہتا ہے وہ اور مضمون ہے کیونکہ اس جیسا کوئی نہیں۔لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اس کے ہاتھ میں ہیں یعنی کوئی مسئلہ بھی حل نہیں ہوسکتا، کوئی عقدہ کھل نہیں سکتا جب تک کہ خدا کوئی کنجی نہ تھمائے۔اس کے بغیر خدا کا تصور کامل ہونا تو بہت دور کی بات یعنی ناممکن ہے، اس کی مخلوق کا تصور بھی درست نہیں ہو سکتا جب تک اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے ان کو سمجھنے اور حل کرنے کی کنجیاں عطا نہ کرے۔يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاءُ جس کے لئے چاہتا ہے اپنا رزق بسیط فرما دیتا ہے اس کو پھیلا دیتا ہے، کھول دیتا ہے۔وَيَقْدِرُ اور تنگ بھی کرتا ہے اور اندازے بھی مقررفرماتا ہے۔بے حساب بھی دیتا ہے اور ناپ تول کر بھی دیتا ہے۔اِنَّهُ بِكُلِّ شَيْ ءٍ عَلِيمٌ یقیناً وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔عید سے پہلے خطبے میں اور عید کے خطبے میں یہ مضمون شروع ہو چکا تھا اگر چہ پہلے خطبے میں لیلتہ القدر کی بات تھی مگر در حقیقت اس مضمون کا آغاز وہاں سے شروع ہو چکا تھا اور عید کے خطبے میں میں نے کھول کر بیان کیا تھا کہ نسبتا اور پھر گزشتہ خطبے میں اسی مضمون کو سمجھانے کے لئے فلسفی جس راستے سے خدا تک پہنچنے یا خدا کے نہ ہونے کا نتیجہ پیدا کرنے کے لئے کوششیں کرتے رہے ہیں ان سے متعلق میں نے مختصر اذکر کیا تھا۔اس وقت مجھے خود محسوس ہو رہا تھا کہ وہ جو سامنے بیٹھے ہیں ان میں سے کم ہی ہیں جو اس مضمون میں میرا ساتھ دے رہے ہیں اور جو دور بیٹھے ہوئے مختلف علوم کے درجوں پر ہیں ان کے متعلق مجھے کافی رحم آ رہا تھا کہ یہ بے چارے کس مصیبت میں پھنس گئے لیکن میری بھی ایک مجبوری تھی اور ہے۔یہ مضمون ایسا ہے کہ اس راستے سے گزرے بغیر ان آیات کی تشریح نہیں ہوسکتی تھی جو میں نے آغاز میں تلاوت کی تھیں۔لا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ (الانعام: 104) میں نے بتایا تھا کہ انسانی آنکھیں کیسی ہی روشن کیوں نہ ہوں، انسانی نظر کیسی ہی تیز کیوں نہ ہو، خود اپنی کوشش سے