خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 175 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 175

خطبات طاہر جلد 14 175 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 1995ء خدا ایسا زمانہ جس میں کوئی تبدیلی نہیں۔اللہ کے لفظ سے صفات پھوٹتی اور اسی کی طرف واپس لوٹتی ہیں۔( خطبه جمعه فرموده 17 / مارچ1995ء بمقام بيت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ تلاوت کیں۔فَاطِرُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَ مِنَ الْأَنْعَامِ أَزْوَاجًا يَدْرَؤُكُمْ فِيْهِ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ لَهُ مَقَالِيدُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (الشورى: 12 13) پھر فرمایا: وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اس نے تمہارے اپنے نفوس میں سے تمہارے لئے جوڑے بنائے اور جانوروں میں سے بھی یعنی انعام میں سے،مویشیوں میں سے بھی جوڑے بنائے تمہیں وہ زمین سے آگا تا ہے یعنی لفظی ترجمہ ہے بیج ڈال کر جس کو اگایا جاتا ہے اس کے لئے لفظ ’ذرع‘استعمال ہوتا ہے تو وہ زمین میں تمہیں آگاتا ہے یعنی پرورش فرماتا ہے لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْ ءٍ اس جیسا اور کوئی نہیں ہے۔ان تمام صفات میں کچھ ملتی جلتی باتیں تمہیں دکھائی دیں گی مگر در حقیقت مخلوق کی صفات سے خدا کی صفات کا ملہ تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔اس کے مقاصد کا کچھ شعور حاصل ہو جاتا ہے۔جتنا وہ چاہے، مگر ذات کا فہم ناممکن ہے کیونکہ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْ ءٍ اس جیسا کوئی اور