خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 13
خطبات طاہر جلد 14 13 خطبہ جمعہ 6 / جنوری 1995ء برکتیں پڑیں گی۔جو حوالہ میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا تھا موازنے سے پہلے وہ ایک دلچسپ حوالہ ہے وہ ہے ایک اخبار، احمدیت کی دشمنی میں وقف ایک رسالہ جس کا نام ”المنبر “ ہے وہ فیصل آباد سے جاری تھا۔اس پرانے زمانے میں 1953ء کی تحریک میں اس نے جماعت کے خلاف بڑا کر دار ادا کیا۔عبدالرحیم اشرف صاحب اس کے ایڈیٹر تھے اور ان کا پاکستان کے دینی طبقوں پر بڑا اثر تھا۔1953ء کی تحریک کی ناکامی کے بعد انہوں نے تجزیہ کیا کہ کیا ہوا اور بے اختیار دل سے یہ آواز نکلی کہ ہم نے سب کچھ کر لیا مگر جماعت کا کچھ نہیں بگاڑ سکے اور جو وہ چندوں کی مثال دیتے ہیں جس سے غیر معمولی متاثر ہیں وہ ذرا سن لیں آپ کو اندازہ ہو کہ 1953ء میں قادیانی جماعت کا حال کیا تھا مالی قربانی کا۔وہ کہتے ہیں کہ 1953ء کے عظیم تر ہنگامے کے باوجود قادیانی جماعت اس کوشش میں ہے کہ 1957۔1956ء میں اس کا بجٹ پچیس لاکھ روپے تک پہنچ جائے ساری دنیا کی جماعت کا بجٹ پچیس لاکھ روپے تک پہنچ جائے اس کوشش میں ہیں۔کہاں وہ دن کہاں آج کے دن۔آج خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس سال وقف جدید کا جو وعدہ تھا وہ دو کروڑ اکتالیس لاکھ کا تھا مگر وصولی دو کروڑ تریسٹھ لاکھ ہوئی ہے۔تو کہاں وہ اس کے تو ہمات کہ یہ دیکھو کیسی باتیں کر رہے ہیں گویا ستاروں پر کمند ڈالنے لگ گئے ہیں۔چھپیس لاکھ کے بجٹ کی سوچ رہے ہیں اور اب وقف جدید کا اکیلا دو کروڑ تریسٹھ لاکھ وصولی کا بجٹ ہے اور جہاں تک کل انجمن کے بجٹوں کا تعلق ہے اس کی برکت کا یہ حال دیکھ لیں۔1957 ء تک تو وہ کہہ رہا تھا کہ یہ پچیس لاکھ کی باتیں کر رہے ہیں۔1982-1981ء میں ایک کروڑ ستائیس لاکھ سڑسٹھ ہزار چھ سوستاسی ہو چکا تھا اور 1983ء۔1982ء میں ایک کروڑ ین لاکھ چھیانوے تھا اور 1984ء۔1983ء میں میرے ہجرت کے سال سے ایک سال پہلے کل انجمن کا بجٹ دو کروڑ چھ لاکھ چودہ ہزار تھا اور اب صرف وقف جدید کا دو کروڑ تریسٹھ لاکھ ہو چکا ہے۔تو یہ پیسے حریص جماعت کی طرف سے آرہے ہیں جن کو مال کا فکر ہے اور مال کا حرص ہے؟ یہ تو اس جماعت کی طرف سے آرہے ہیں جن کو مال کی کوڑی کی بھی پروا نہیں رہی۔اپنے مال پیش کرتے ہیں اور قبول ہوں تو خوش ہو کے لوٹتے ہیں۔نہ قبول ہوں تو روتے ہوئے واپس جاتے ہیں۔پس وقف جدید کے سلسلہ میں بھی خدا تعالیٰ نے وہ عظیم احسانات فرمائے ہیں کہ روح خدا کے