خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 171
خطبات طاہر جلد 14 171 خطبہ جمعہ 10 / مارچ 1995ء روہ کسی قسم کی کوئی معلوم سائنٹیفک طاقت بیچ میں ذریعہ نہ بنے ، واسطہ نہ بنے اور اس کے باوجود ایک انسان کی سوچ دوسرے انسان پر منتقل ہو کے اس میں تبدیلی پیدا کرے، اس پر غالب آجائے ،اس میں حرکت پیدا کر دے۔یہ جو مضمون ہے میں نے شاید پہلے بھی آپ کو ایک مثال کے طور پر بتایا تھا خود میں اس کا گواہ ہوں یعنی بعد میں تو کئی معنوں میں گواہ ہوں مگر میں آغاز میں بتارہا ہوں۔اسی انگلستان میں ایک دفعہ ایک پارٹی میں شامل ہونے کا مجھے موقع ملا جواس وقت Intelectual کی اکٹھی ، بڑی دلچسپ باتوں کے لئے ساری رات کھاتے پیتے تھے مختلف مسائل گفتگو کرتے تھے، ایسی پارٹی تھی۔اس میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا انسان کی سوچ میں یہ طاقت ہے کہ بغیر کسی سائنٹیفک واسطے کے دوسرے پر اثر انداز ہو سکے۔تو میں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کیونکہ میں نے یہی قرآن کریم کی آیت پیش کی کہ ایسا ہے ورنہ قرآن ایسا نہ فرما تا۔مگر ذاتی طور پر میں نے اس پر تجر بہ نہیں کیا۔تو انہوں نے کہا پھر تم پر کیوں نہ تجربہ کریں۔میں نے کہا ٹھیک ہے کر لو۔تو اب دیکھیں میں کمرے سے باہر چلا گیا اور اتنی دور انہوں نے مجھے پہنچایا، ایک نگران کھڑا کر دیا کہ اگر اس کی نیت بد بھی ہو تو نہ آئے واپس اور اندر بیٹھ کے کچھ مشورے کئے۔جب واپس کمرے میں مجھے بلایا گیا تو ایک بڑے دائرے میں کافی آدمی تھے وہ سارے بیٹھے ہوئے تھے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کے اور مجھے کہا کہ تم ہمیں پھلانگ کر اس کے مرکز میں آکر بیٹھ جاؤ آرام سے۔پس تم بیٹھ جاؤ اور کچھ نہیں کوئی حکم نہیں کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا۔کچھ دیر تک بیٹھا رہا اس کے بعد پتا نہیں کیوں مجھے خیال آیا کہ میں اپنے بوٹ کے تسمے کھولوں۔تو میں نے ایک بوٹ کے تسمے کھولے، دوسرے بوٹ کے تسمے کھولے اور اس وقت کسی نے شور مچایا اب باقی بھی کرو۔تو ایک دم وہ جور وتھی وہ ٹوٹ گئی تو میں نے کہا باقی کیا مطلب۔انہوں نے کہا ہم نے یہ سوچا تھا کہ تمہیں کہیں گے کہ بوٹ کے تسمے کھولو اور بوٹ اتار کے بغیر بوٹوں کے بیٹھو اور اتنا حصہ جتنے حصے تک ان کی آواز مخل نہیں ہوئی، میں نے کیا۔تو یہ ایک سوچ دوسری سوچ میں بغیر معروف سائنسی ذرائع کے منتقل ہو کر اس پر اثر انداز ہوئی، اس میں حرکت پیدا کی۔اور خوابوں میں بھی ہم نے ایک دنیا پیدا کی اور کرتے ہیں مگر وہ پاگل پن میں جبکہ انسان دنیا کے تعلق سے بالکل کٹ جاتا ہے اس میں اور بھی زیادہ شدت پیدا ہو جاتی ہے جس چیز کو وہ سوچتا ہے اس کو اتنا یقینی سمجھتا ہے کہ اس کی پیروی بھی کرتا ہے اگر چہ ظاہر میں اس کا وجود نہیں ہوتا۔مگر خدا تعالیٰ