خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 164
خطبات طاہر جلد 14 164 خطبہ جمعہ 10 / مارچ 1995ء اس کے اندر تبدیلی کے بغیر بھی ، یعنی ذات میں تبدیلی نہیں مگر صفات کے جلوے اپنی شان بدلتے ہیں اور صفات کے جلووں کی شان، جبکہ ذات میں تبدیلی نہ ہو، یہ ان معنوں میں زمانہ نہیں ہے جس کا کوئی آغاز ہونا چاہئے یا جس کا کوئی انجام ہونا چاہئے۔پس كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ میں ایک یہ بھی مضمون ہے کہ اس کی صفات جلوے دکھا رہی ہیں اور ایک ہی جلوے پر Stationary نہیں ہیں۔ایک جلوے پر جامد نہیں ہیں کیونکہ ایک جلوے پر اگر وہ جامد ہوں تو پھر ایک ایسی باشعور ہستی جو موقع اور محل کے مطابق فیصلے کرتی ہو اور کر سکتی ہو اور اپنی مخلوق سے تعلق قائم کر سکتی ہو۔اس کا وجود مٹ جاتا ہے۔اسی لئے آغاز میں جب ارسطو کا یہی رجحان تھا تو اس نے قطعی طور پر ایسے خدا کا انکار کیا جو انسانی معاملات میں دلچسپی لیتا ہو۔افلاطون نے اس کے برعکس ایک ایسے خدا کا وجود پیش کیا جس کا انسانی معاملات سے تعلق ہے لیکن اس کی سوچوں پر چونکہ اس زمانے کے فرضی خداؤں کا بھی اثر تھا، دیوتاؤں وغیرہ کا اس لئے وہ سوچ کچھ مل جل سی گئی ہے۔کچھ ان روایتوں کے تعلق میں جو اس زمانے میں چلی آتی تھیں کہ بہت سے دیوتا ہیں، کچھ اس کی اپنی طبعی فطرت کی روشنی کے نتیجے میں کہیں واحد خدا کا ذکر اس کی سوچوں میں ملتا ہے، کہیں دوسرے خداؤں کا ذکر بھی مل جاتا ہے۔مگر یہ مضمون ایسا ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا میں اسے الگ پیش کروں گا۔اس وقت میں آپ کو یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ شانوں کی تبدیلی زمانے کو نہیں چاہتی۔شانوں کی تبدیلی اس زمانے کو نہیں چاہتی جس سے ذات تبدیل ہو اور بیک وقت مختلف جواظہار ہیں وہ درحقیقت مخلوق کی محدود نظر اور مخلوق کے تقاضوں کی خاطر لازمی ہیں۔ایک انسان میں اپنی ذات پر اگر آپ سوچیں تو کچھ نہ کچھ اس کی سمجھ آسکتی ہے باوجود اس کے کہ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ ( شوری :12 ) کہ خدا جیسی کوئی چیز نہیں۔جن سائنس دانوں نے خدا کو سمجھنے میں ٹھوکر کھائی ہے اکثر و بیشتر یہی وجہ ہوئی ہے کہ انہوں نے اپنی ذات کو پروجیکٹ کر کے پوری طرح خدا پر اس کی حدود عائد کرنے کی کوشش کی یہ ناممکن تھا کیونکہ تخلیق سے خالق کی پوری پہچان ممکن نہیں ہے تخلیق سے یہ تو ممکن ہے کہ اس کی بعض صفات کو پہچان لیا جائے اس کی چھاپ دیکھ کر اندازہ ہو لیکن اس کا حدود اربعہ معلوم ہو جائے تخلیق سے یہ ناممکن ہے۔