خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 163 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 163

خطبات طاہر جلد 14 163 خطبہ جمعہ 10 / مارچ 1995ء سے ذکر چاہئے تھا اور آئن سٹائن اس بات کو خوب سمجھتا تھا ، وہ خود جانتا ہے کہ جو بھی تبدیل ہونے والی مادی کائنات ہے یہ ہمیشہ سے نہیں ہو سکتی۔تو اس طرف پہنچنے کی بجائے جہاں خدا دکھائی دے سکتا تھا وہ ایک اور طرز فکر میں داخل ہو جاتا ہے اور عمداً اس کو چھوڑ دیتا ہے۔میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ دیانت کے خلاف ہے کہ وہ اتنا ذہین آدمی تھا، کہ میرے نزدیک یہ قابل قبول ہی نہیں ہے کہ اس کی توجہ اس طرف نہ گئی ہو۔پس توجہ بنی چاہئے تھی، گئی ہوگی لیکن نظر انداز کرتا ہے۔دوسرے جو اس کے استدلالات ہیں ان سب میں یہی بات پائی جاتی ہے۔مگر ارسطو بہت دیانتدار تھا۔اس کی سوچ انتہائی منطقی اور کامل دیانتداری پر مبنی تھی۔ایک وقت وہ تھا جبکہ عملاً وہ خدا کے تصور سے دور تھا کیونکہ وہ یہ سوچتا تھا کہ روح مادے ہی کی ایک صفت ہے اور یہ فلسفہ افلاطون سے اس نے لیا اور پھر آگے اس کو بڑھایا۔مطلب ان کا یہ تھا کہ جو صفات ہیں وہ منحصر ہیں مادے پر اور روح بھی مادے ہی کی ایک صفت ہے۔پس جب مادہ ختم ہوا تو روح بھی ختم ہو گئی۔یہ آغاز میں اس کی سوچ تھی لیکن اس کے ساتھ ہی پھر یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ مادہ آیا کیسے اور مادہ اگر تبدیل ہو رہا ہے اور یہ دونوں جانتے تھے کہ مادہ تبدیل ہورہا ہے تو پھر آغاز کیسے ہوا۔تو ایک ایسے خدا کے تصور تک پہنچے جس کو انہوں نے مادہ کہا اور مادہ اول اور وہ مادہ اول غیر مبدل تھا اور اس کے نتیجے میں پھر وہ سب مادے پیدا ہوئے جو اول محرک کے نتیجے میں حرکت میں آگئے لیکن اول محرک ساکن تھا۔یہ ایک فلسفیانہ ایک شعبدہ تھا مگر اس میں منطق ضرور پائی جاتی ہے۔لیکن آخری بات کا حل کوئی نہیں۔ارسطو نے جب مزید غور کیا اس بات پر تو اس کی میرے نزدیک جو سب سے اہم آخری کتاب ہے لیکن اور بھی بڑی اہم کتابیں ہیں میٹا فزکس Mata phisics اس میں وہ یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ خدا مادہ نہیں ہے کیونکہ مادہ بغیر تبدیلی کے ہمیں کوئی دکھائی نہیں دیتا۔وہ ایک ہی چیز ہے جس کو ہم صرف Mind کہہ سکتے ہیں اور Mind کی حرکت جو ہے وہ تبدیلی کو نہیں چاہتی اس لئے وہ Eternal ہوسکتا۔ہے۔یہ جو ارسطو کی سوچ تھی اس زمانے کی تعریف کے مطابق ہے جو میں نے آپ کے سامنے پیش کی تھی۔پس ہر وہ زمانے کا تصور جو خدا تعالیٰ کی ذات کی طرف منسوب ہوسکتا ہو ، جس میں تبدیلی لازم نہ آئے اور آغاز یا انجام کا کوئی تصور موجود نہ ہو، یہ اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف نہیں بلکہ خدا تعالیٰ خودا اپنی ذات کے تعارف کے دوران بہت سی ایسی باتیں بیان فرماتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ