خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 149 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 149

خطبات طاہر جلد 14 149 خطبہ جمعہ 24 فروری 1995ء تھے کہ وہ کیسی ہے؟ تو جس بات سے ان کی تسلی ہوئی مُسَلَّمَةٌ لَّا شِيَةَ فِيهَا ( البقرہ : 72) ان کو بیان کیا گیا کہ کامل طور پر مسلم ہے۔ یعنی ہر قسم کے نظر آنے والے عیب سے پاک ہے ادنیٰ بھی عیب Bla وغیرہ کا نشان اس میں نہیں دیکھو گے ۔ تو حضرت امام رت امام راغب کی فراست کو دیکھیں کہ ان دو Blamesh مختلف استعمالات کو قرآن سے اکٹھا کر کے ظاہر و باطن کے مضمون کو کیسی عمدگی سے بیان کر دیا۔ اس سلسلے میں حضرت مسیح موعود کے چند اقتباسات آپ کے سامنے رکھتا ہوں آپ فرماتے ہیں: اور اس جگہ یہ بات بھی یادر ہے کہ زمانہ کے فساد کے وقت جب کوئی مصلح آتا ہے اس کے ظہور کے وقت پر آسمان سے ایک انتشار نورانیت ہوتا ہے یعنی اس کے اترنے کے ساتھ زمین پر ایک نور بھی اترتا ہے اور مستعد دلوں پر نازل ہوتا ہے۔ ( شہادۃ القرآن ۔ روحانی خزائن جلد ۶ صفحه : ۳۱۲) یعنی لیلۃ القدر کے جو انوار نازل ہوتے ہیں اس وقت کے امام پر، وہ ارد گرد بھی علاقے کو روشن کر دیتے ہیں ۔ جیسے تیز روشنی کی دھار اوپر سے اترے تو علاقے کا علاقہ روشن ہو جاتا ہے ، دور تک اس کا نیک اثر پہنچتا ہے۔ پس اس سے ہم استنباط کر سکتے ہیں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ پر صلى الله عليسة عليسة جونور نازل ہوا ہے چونکہ آپ کل عالم کے نبی تھے، تمام دنیا کے اندھیروں کو روشنی میں بدلنے والے تھے ، پس اس نور کا ایک فیض عام سب دنیا میں پہنچنا لازم تھا اور وہ فیض عام صرف مذہب سے تعلق نہیں رکھتا تھا بلکہ دنیا کے امور سے بھی تعلق رکھتا تھا۔ یہ ایک دعوی ہے، کوئی کہہ سکتا ہے اس کا ثبوت کیا ہے ، اس کے ثبوت سے تو قرآن بھرا پڑا ہے۔ میں نے چند دن پہلے درس میں بھی یہ بیان کیا تھا ۔ وہ تمام امور دنیاوی ترقیات سے تعلق رکھنے والے جنہوں نے آئندہ زمانوں میں ظاہر ہونا تھا۔ ان کی خبر قرآن کریم میں دے کر اس بات کو ثابت کر دیا گیا کہ یہ سارے فیوض محمد مصطفی اے کے فیض سے ہیں اور وہ روشنی جو آپ پر نازل ہوئی ہے، وہ لیلۃ القدر کا نور جو آپ کے دل پر اترا ہے وہ کل عالم کے لئے ہے۔ تم اس کے ظاہری فیوض سے تو فائدہ اٹھاؤ گے اور ہم ابھی مطلع کر دیتے ہیں کہ ایسی ایسی برکتیں اور ایسے ایسے فیوض تمہیں نصیب ہوں گے جو تمہاری دنیا کو بنا دیں گے مگر اگر اصل نور سے محروم رہو تو بڑی محرومی ہے۔ پس اس مضمون کو ان آیات کے تعلق میں پڑھیں تو دیکھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا عارفانہ کلام کل عالم کو روشنی سے بھرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ روشنی جو قرآن سے لیتے