خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 148
خطبات طاہر جلد 14 148 خطبہ جمعہ 24 فروری 1995ء اشارہ ہے کہ وہ لوگ جن کو خدا تعالیٰ ایسی دفاعی صلاحیتیں عطا کر دے کہ وہ ان چیزوں سے پاک ہو جائیں۔Immunity کے بعد کہتا ہے Or Freedom From Faults ہر قسم کی غلطی سے پاک ہو جائیں۔Defects نقائص سے پاک ہو جائیں،Imperfections، غیر مکمل حالت سے پاک ہو جائیں۔یعنی اس کا برعکس ہے کمال اور تکمیل۔وہ صاحب تکمیل اور صاحب کمال ہو جائیں۔Blameshes کوئی داغ کسی قسم کا کوئی نقص دکھائی نہ دے or Vices کسی بدی کا سوال نہ ہو۔و الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ میں جو اکمال کا مضمون ہے وہ سارا لفظ سلام میں داخل ہے وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا تو اسلام میں خدا تعالیٰ کی صفت سلام جھلک رہی ہے اور اس لفظ میں بھر پور موجیں مار رہی ہے۔تو سلام سے جو مذہب پھوٹا ہے اس کا نام اسلام رکھا گیا اور قرآن کریم نے اس کی جو تعریف فرمائی ہے۔مختلف مفسرین نے جو لفظ سلام پر غور کر کے باتیں بیان کی ہیں وہ اس ایک لفظ میں آجاتی ہیں۔اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا پس وہ وعدہ جو اس سورۃ نے آغاز نبوت ہی میں کیا تھا اس کی حیرت انگیز تکمیل رسول اللہ ﷺ پر آخری لمحات میں نازل ہونے والی وحی میں سے ایک آیت میں ملتی ہے۔یعنی وہ آیت جو میں نے بیان کی ہے اور مفردات میں لکھا ہے السلم والسلامة التعرى من آفات الظاهرة والباطنته حضرت امام راغب کہتے ہیں کہ جو حفاظت اور سیکیورٹی کی بات ہوتی ہے سلام میں، وہ ظاہری طور پر بھی پوری ہوتی ہے اور باطنی طور پر بھی۔کوئی پہلو انسانی زندگی کا ایسا نہیں ہے جو لفظ سلام کے تابع محفوظ نہ رہے۔چنانچہ اس کی مثال دیتے ہیں۔بِقَلْبِ سَلِیمِ (الشعراء: 90) قرآن کریم میں جو آتا ہے اس میں اندرونی نقائص سے پاک ہونا اور خطرات سے محفوظ رہنے کا ذکر ہے۔قلب سلیم دل جو آماجگاہ ہے تمام نیکیوں کا اور بدیوں کا بھی بن جاتا ہے۔اس کے متعلق جب کہا جائے قلب سلیم تو مراد یہ ہوتی ہے کہ ہر قسم کے بدی کے خطرے سے، ہر قسم کی ٹھوکر کے خطرے سے اس کو محفوظ کر دیا گیا ہے۔پاک ،صاف، شفاف جیسے پیدا ہوا تھا ویسا ہی اب بھی ہے اور اگر بیرونی مضمون کو بیان کیا جائے تو مثال دیتے ہیں قرآن کریم میں کہ گائے کی وہ مثال جس کے متعلق بنی اسرائیل بار بار حضرت موسیٰ سے سوال کرتے