خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 140 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 140

خطبات طاہر جلد 14 140 خطبہ جمعہ 24 فروری 1995ء آپ نے قدم بڑھایا تو وہ بھی بڑھائیں گے، یہ سلسلہ چل پڑے گا انشاء اللہ تو اب وقت ہے کہ ہم عبادتوں کی طرف توجہ جب کر رہے ہیں تو عبادت گاہوں کی طرف بھی توجہ کریں۔ہمارا مضمون اس سے برعکس ہے جو اقبال نے بیان کیا ہے اقبال تو کہتا ہے مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے من اپنا پرانا پاپی تھا برسوں میں نمازی بن نہ سکا (کلیات اقبال) تو ہم شب بھر میں عبادت کرنے والے پیدا کر رہے ہیں اور بڑھاتے چلے جارہے ہیں۔لیکن ہماری جو گناہوں کی شامت اعمال ہے کہ ابھی تک یہ تو فیق پوری نہیں ہوئی کہ ان عبادت کرنے والوں کو عبادت گاہیں بھی مناسب حال مہیا کر سکیں۔مگر اس کا ایک ازالہ تو حضرت اقدس محمد مصطفی سے ہمیشہ کے لئے فرما گئے ہیں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے یہ خاص فضیلت عطا کی ہے کہ آپ کی خاطر تمام زمین مسجد بنادی گئی ہے۔تو مسجد کے باہر بھی جو عبادت کے لئے زمین ہے وہ بھی ہماری خاطر کیونکہ ہم محمد کے بچے غلام ہیں ، عبادت گاہ بنادی گئی ہے۔اس لئے یہ مضمون دل کی تسلی کے لئے تو ہے لیکن یہ مطلب نہیں کہ مسجدیں بنانی چھوڑ دو اور صرف کھلی زمین پر عبادت کیا کرو کیونکہ موسموں کے تقاضے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔اس خوشخبری کے باوجود آپ نے بڑی وسیع مساجد بنا ئیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔یہ جمعہ تو ایک ہی ہے اور مضمون بہت ہیں جو بیان کرنے والے ہیں اور ناممکن ہے کہ اس جمعہ میں وہ سمیٹے جاسکیں لیکن ایک ایسی خبر ہے جو میں اس وقت آپ کو بتانا چاہتا ہوں اس کے بعد اس پر مزید روشنی شاید آئندہ کسی خطبے میں ڈالنے کی توفیق ملے گی۔دس تاریخ کا جو جمعہ تھا اس میں میں نے جماعت سے یہ ذکر کیا تھا کہ رسول کریم ﷺ کی نصیحت کے مطابق میں بھی ہمیشہ طالب علم رہوں گا اور علم سیکھنے کے لئے میرے لئے کوئی عار نہیں ہے۔آخری سانس تک علم سیکھنے کو اپنے لئے باعث افتخار سمجھوں گا اور علم سکھانے میں بھی جو خدا توفیق دے گا کوشاں رہوں گا اور ساری جماعت کو نصیحت کی تھی کہ آپ بھی ایسا کریں اور اس ضمن میں میں نے کہا کہ انسان، انسان سے علم سیکھتا ہی ہے یہ تو رواج جاری ہے میں بھی سیکھتا ہوں اس میں کسی قسم کے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔یہ اعزاز ہے، کوئی تذلیل نہیں ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی ذکر کیا تھا کہ اس