خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 139 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 139

خطبات طاہر جلد 14 139 خطبہ جمعہ 24 فروری 1995ء اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ سردست جو میں نے تخمینہ لگایا ہے امیر صاحب سے مشورہ بھی کیا ہے تو وہ بھی کہتے ہیں ٹھیک ہے مگر کچھ ان کے ٹھیک سے مجھے لگا تھا کہ وہ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ جماعت میں ابھی یہ توفیق نہیں، تو تو فیق تو خدا بڑھا دیا کرتا ہے ، میں نے پانچ ملین کا تخمینہ لگایا ہے یہاں کی مرکزی مسجد کے لئے اور جیسا کہ میرا پرانا دستور چلا آرہا ہے اللہ تو فیق بھی عطا فرمارہا ہے کہ ہر وہ وسیع ، بڑی تحریک جو کرتا ہوں اس کا سواں حصہ میں اپنی طرف سے پیش کرتا ہوں لیکن اس سے پہلے میں امیر صاحب کی طرف سے دس ہزار پاؤنڈ کا وعدہ لکھوار ہا ہوں تا کہ ان کا پہلا نمبر ر ہے۔اگر چہ میری نیتوں میں ان سے پہلے غالباً یہ بات چلی آرہی تھی کہ پچاس ہزار پاؤنڈ کا میں اکیلا نہیں بلکہ اپنی بچیوں ، دامادوں ، بچوں اور مرحومین سے تعلق والوں کی طرف سے یہ لکھواؤں۔پانچ سال کا عرصہ میرے ذہن میں ہے۔پانچ سال میں اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے گا تو یہ رقم سارے وعدہ کروانے والے پوری کر دیں لیکن اگر یہ وعدے اتنے نہ ہوئے تو پھر پانچ سال مزید بھی اس کو بڑھایا جا سکتا ہے اور مسجد کے معاملے میں بنیا دیں وسیع ہونی چاہئیں اور سادہ سی عمارت کی تعمیر بھی ہو جانی چاہئے۔باقی زیبائشیں بعد کی باتیں ہیں دیکھی جائیں گی۔تو میں سمجھتا ہوں کہ پچاس لاکھ اگر پانچ سال میں نہ بھی پورا ہو( پانچ ملین تو پچاس لاکھ بنتا ہے بہت بڑی رقم ہے ) تو دس لاکھ بھی سہی لیکن ارادے بلند رکھیں اور اللہ سے توقعات بلند رکھیں نئی نسل کے جو بچے اب خدا کے فضل سے مختلف نوکریوں پر لگ رہے ہیں ان کو بھی شامل کریں اور خدا سے تو فیق بڑھانے کی دعائیں مانگیں تو کوئی بعید نہیں اور پھر جب بھی تحریک کی جاتی ہے تو سب دنیا سے خدا ویسے بھی مددگار کھڑے کر دیتا ہے۔کچھ ایسے جوش رکھنے والے متمول دوست ہیں کہ دنیا کی کوئی بھی تحریک ہو پیچھے نہیں رہنا چاہتے تو وہ بھی آپ کی انشاء اللہ نصرت فرمائیں گے۔تو اس وقت میں پانچ ملین کی تحریک جماعت انگلستان کی مرکزی مسجد کے لئے کرتا ہوں اور اس دعا اور نیت کے ساتھ کہ یہ لازماً انگلستان کی وسیع ترین مسجد ہو۔عبادتوں کی گنجائش پر زور ہونا چاہئے۔جو ملحقہ عمارتیں ہیں یا دوسرے نخرے ہیں ان کو بے شک نظر انداز کر دیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر یورپ کی سب سے بڑی مسجد ہو جائے تو یہ بھی بعید نہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں پھر جرمنی کو بڑی تحریک ہوگی کیونکہ جرمنی آپ کی رقیب جماعت ہے اور وہ برداشت نہیں کر سکتی کہ کسی نیکی میں آپ ان سے آگے نکل جائیں تو