خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 125
خطبات طاہر جلد 14 125 خطبہ جمعہ 17 فروری 1995ء ہے اس میں ٹیم کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ بعض دفعہ میں بول رہا ہوں بعض دفعہ ایک آدمی مرد جواب دے رہا ہے بعض دفعہ ایک لڑکی پیچھے پردے میں بیٹھی ہے لیکن موجود ہے۔اس کو عورتوں کی نمائندگی میں بات کرنی پڑتی ہے۔بعض دفعہ بچوں سے سوال جواب ہیں وہ بچے جواب دیتے ہیں مختلف عمر کے۔کہیں لڑکے کی آواز ہے، کہیں لڑکی کی آواز ہے تو پروگرام زیادہ محنت کا تقاضا کرتا ہے اور زیادہ اعلیٰ انتظام کا تقاضا کرتا ہے۔اس سلسلے میں اب جبکہ ناروے کی ٹیم فارغ ہوئی ہے انشاء اللہ وہ مجھے یقین ہے بڑی جلدی یہ سارے پروگرام بنا کے بھیجنا شروع کر دیں گی۔تو یہ جو زبان والا حصہ ہے یہ ایسا پروگرام ہے جو کچھ الجھن پیش کر رہا ہے۔اس سلسلے میں بعض لوگوں کی طرف سے جو نمونے کے پروگرام جنہوں نے سنے ہیں یہ شکایت آئی ہے کہ بعض دفعہ آپ کسی چیز کی طرف اشارہ کر رہے ہیں وہ دکھائی نہیں دے رہی ہوتی۔کیمرہ مین کسی اور طرف دیکھ رہا ہے اور بعض دفعہ جو ترجمہ کرنے والا ہے اس کی زبان اور ہے وہ لگتا ہے کچھ اور بیان کر رہا ہے، آپ کچھ اور کر رہے ہیں تو سمجھنے میں دقتیں ہیں۔ان کو میں سمجھا رہا ہوں کہ دقتیں تو ہیں لیکن ان کا حل یہاں سے زیادہ آپ کے ہاتھ میں ہیں جو سننے والی جماعتیں ہیں یہ ان کا فرض ہے۔ہم نے تو جس طرح بھی ہو سکا ایک پروگرام نمونے کے طور پر پیش کر دیا مگر آگے مختلف زبانوں میں اس کا ڈھالنا اور اس کا حق ادا کرنا یہ آپ لوگوں کا کام ہے۔جہاں تک کیمرہ مین کا تعلق ہے آپ کو علم ہونا چاہئے کہ سارے یہ طوعی خدمت کرنے والے ہیں نوجوان۔اور جو ہماری پروفیشنل ٹیم کہلاتی ہے وہ بھی طوعی ہے اصل میں یہ جسوال برادران کی ٹیم جو ہے یہ طوعی خدمت کرنے والی ہے ان کے اوپر حسب توفیق بوجھ ڈالا جا سکتا ہے اس سے زیادہ نہیں اور جو نو جوان ہیں بعض دفعہ دل چاہتا ہے کہ ان کو اسی وقت سمجھایا جائے کہ تمہارا کیمرہ دوسری طرف ہے مگر پر وگرام میں رخنہ نہیں ڈالا جا سکتا اور وہ اپنی توفیق کے مطابق کرتے ہیں یہ تو نہیں ہوسکتا کہ میں ادھر زبان بھی سکھا رہا ہوں اور کیمرہ سے بھی دیکھ رہا ہوں کہ کیمرہ ٹھیک جگہ فوکس ہوا ہے کہ نہیں۔تو یہ مجبوریاں ہیں ان کو برداشت کریں آہستہ آہستہ معیار اونچے ہوں گے۔انشاء اللہ۔ان میں سے کوئی بھی ایسا Criticism نہیں ہے جو بد نیتی سے کیا گیا ہے۔کوئی تنقید ایسی نہیں ہے جس میں نعوذباللہ من ذالک کوئی رعونت ہو کوئی تلخی ہو۔مخلص بندے ہیں وہ بے چارے چاہتے ہیں کہ پروگرام اچھے ہوں تنقید بھیج دیتے ہیں