خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 116
خطبات طاہر جلد 14 116 خطبہ جمعہ 17 فروری 1995ء بیج ڈالنے والی مشینیں ہیں ان کی نالیاں بند ہوتی ہیں اب وہ زمین کو کوسا جائے تو یہ تو جائز بات نہیں ہو گی۔بعض دفعہ جلدی پتا لگ جاتا ہے بعض دفعہ کچھ عرصے کے بعد جبکہ بیجنے کا موسم ہی گزر جاتا ہے پھر پتا چلتا ہے پھر زمیندار کچھ بھی نہیں کر سکتا۔تو ایسی جماعتیں بھی ہیں جہاں بعض منتظمین رستے میں بیٹھے ہوئے ہیں اور جماعتیں مستعد ہیں لیکن کام نہیں ہو رہا جس کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں پر انحصار کیا گیا تھا انہوں نے اس انحصار کے تقاضے پورے نہیں کئے۔اب تک جو یاد دہانیاں کروائی گئیں جماعتوں میں ان میں سب سے زیادہ میرے لئے کوفت کا موجب جرمنی کی جماعت بنی کیونکہ بڑی مستعد ہے، بڑی قربانی کرنے والی ہے اور MTA کا سب سے بڑا بوجھ جرمنی کی جماعت نے اٹھایا ہوا ہے تو MTA سے استفادے میں وہ محروم رہ جائے تو گویا ان کی مثال اس بیچ والی زمین کی سی بن جائے گی جو پانی اکٹھا تو کرتی ہے اور لوگ تو فائدہ اٹھا لیتے ہیں مگر خود فائدہ نہیں اٹھا سکتی۔مگر میں نہیں سمجھتا کہ جرمنی کی جماعت اس مثال پر اپنے لئے راضی رہے اگر چہ حادثہ یا اتفاقاًیہ مثال ان پر صادق آرہی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ امیر صاحب چونکہ جرمن بولنے والے امیر ہیں ، بے حد مخلص فدائی منکسر المزاج ، بے حد مفتی مگر بعض دفعہ وہ لوگ جو اردو دان ہیں یا پنجابی بولنے والے ہیں ان کی وہ ٹیمیں بناتے ہیں،اس اعتماد پر کہ اچھا کام کرنے والے ہیں اور وہ پھر آگے اس کام پر بیٹھ رہتے ہیں۔پھر ان کی مدد کرنی پڑتی ہے ان کو سمجھانا پڑتا ہے کہ اس ٹیم کو بدلیں کوئی اور ٹیم لے آئیں۔بعض دفعہ ان کی مجلس عاملہ میں بیٹھ کر خود تبدیلیاں کروائی گئیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہی جماعت جو پہلے غیر مستعد نظر آتی تھی اچانک اس میں جان پڑ گئی۔وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ (التصویر:19) کی صورت میں جس طرح صبح جاگ اٹھتی ہے اسی طرح وہ صبح کی طرح روشن جماعتیں تھیں مگر صبح کے وقت سوئی ہوئی تھیں تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بڑا فضل فرمایا۔یہ جو کام ہے اس میں بھی معلوم ہوتا ہے کوئی ایسی ہی ٹیم امیر صاحب اور جماعت کے درمیان پڑی ہوئی ہے جو کاموں پر بیٹھ گئی ہے اور جرمنی کی جماعت کو یہ دن دیکھنا پڑا کہ بار بار موقع دینے کے باوجود میں ٹالتا رہا اس مضمون کو ذرا ٹھہر کے بیان کروں تا کہ مجھے جرمنی سے خوشکن رپورٹ آ جائے لیکن افسوس کہ یہ میری خواہش پوری نہ ہو سکی۔اس لئے امیر صاحب کو اب تبدیلی کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔بعض دفعہ چھوٹی چھوٹی باتیں جن کے متعلق میں اخلاقی خطبات میں نصیحت کر چکا ہوں، بہت