خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 117
خطبات طاہر جلد 14 117 خطبہ جمعہ 17 فروری 1995ء بڑے بڑے فوائد کے رستوں میں حائل ہو جاتی ہیں۔بعض لوگ چھوٹا دل رکھتے ہیں ، ایک آدمی اچھا کام کر رہا ہے امیر کے زیادہ قریب آگیا ہے تو اسی سے حسد شروع ہو جاتا ہے، ایسی باتیں شروع ہو جاتی ہیں جس سے امیر کا دل بھی کھٹا ہوتا ہے کہ یہ تو اسی کی باتیں سنتا ہے گویا کہ اس کو امیر بنا رکھا ہے۔ایک ایسا شخص وہاں موجود ہے مبشر باجوہ کے نام سے مشہور بھی ہے اور بدنام بھی۔مشہور تو ان لوگوں کی نظر میں جو جانتے ہیں کہ نیک انسان ، خدمت گزار۔آج تک میں نے جتنے کام سپرد کئے ہیں سب سے زیادہ مستعدی سے جرمنی میں مبشر باجوہ نے وہ کام کئے ہیں۔کبھی کوئی شکوہ نہیں کبھی بعض دفعہ یاددہانیوں کی بھی کوئی ضرورت نہیں پڑتی۔یاد آیا تو پوچھا تو پتا چلا کہ کام ہو چکا تھا لیکن رپورٹ میں ذرا کمزور ہیں مگر بہت عمدہ کام کیا ہے۔ایک زمانہ تھا جبکہ امیر صاحب ان پر بہت بنا کرتے تھے اس لئے کہ آپ جانتے تھے کہ نیک ،مستعد اور صحیح مشورے دینے والا اور متفرق کام جو بھی سپر دکریں، وہ مستعدی سے کرتا ہے لیکن چونکہ ان کی بیوی کا عزیز بھی ہے اس لئے بعض چھوٹے دل والوں نے چھوٹی باتیں شروع کر دیں کہ لوجی یہ تو گھر کا راج بن گیا ہے۔وہ کہتے ہیں’سالا آدھے گھر والا یا سالی آدھے گھر والی تو انہوں نے امارت ہی بانٹ کے آدھی مبشر کے سپر د کر دی حالانکہ ہرگز ایسی کوئی بات نہیں تھی۔میں نے امیر صاحب سے کہا یہ چھوٹے دل والے اگر اعتراض کرتے ہیں، تو چلیں، کچھ دیر کے لئے کبھی کبھی مشورہ لے لیا کریں، ورنہ اس بیچارے کو الگ چھوڑ دیں اور وہ امور جن میں یہ خاص طور پر مرد تھے ان میں کمزوری آگئی۔اب میں یہ نہیں کہتا کہ اس کام پر مبشر کو مامور فرمائیں۔یہ امیر کا کام ہے وہ خود دیکھے مگر جو بھی اس کام میں روک بن کے بیٹھے ہوئے ہیں وہ مجھے منظور نہیں ہیں۔اب نئے آدمی مقرر کریں اور میں آپ کو مثالیں دوں گا کہ کس طرح چھوٹی چھوٹی جماعتیں جن میں زیادہ وسائل بھی نہیں ہیں چونکہ ان کے کام کرنے والے مخلص اور فدائی تھے ، عاجز تھے اور جو ہدایت دی گئی اس کو قبول کیا اس سے ان کے کم ہونے کے باوجود بہت ہی نیک نتائج ظاہر ہوئے ، اتنے کہ میری توقع سے بھی بڑھ کر۔ایک اس کی میں جو آپ کے سامنے مثال رکھتا ہوں ان کے لئے دعا کی بھی تحریک کرنا چاہتا ہوں بڑے کام وہاں ہونے والے ہیں، بڑے اہم کام ہیں جو آئندہ جماعت کی ترقی پر اثر انداز ہوں گے۔وہ مصروف ہیں لیکن کچھ روکیں ان کی راہ میں حائل ہیں۔وہ ناروے کی جماعت