خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 110
خطبات طاہر جلد 14 110 خطبہ جمعہ 10 فروری 1995ء جس میں تیرے حضور عاجزی اور تیرے حضور کچھ رہنا نہیں ہے۔اس نفس سے جو سیر ہی نہیں ہوتا۔اب یہاں یا درکھیں کہ سیری سے مراد علم کی سیری یہاں نہیں ہے۔یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ بات کے موقع محل کے مطابق معنی صحیح کئے جائیں۔علم سے سیری کا تو کوئی مضمون دکھائی ہی نہیں دیتا کہیں۔علم تو ایک جاری چیز ہے وہ تو ہمیشہ ہی جب طلب بجھتی ہے تو طلب پیدا کر جاتا ہے اور دو چیزوں میں یہ بات پائی جاتی ہے ایک جہنم میں اور ایک حصول علم میں اور اسی طرح خدا تعالیٰ کے وصال کے تعلق میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے گویا جنت اور جہنم دونوں اس حیثیت سے ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں۔جہنم میں بھی ہر بد جو اپنے نفس کی خواہش رکھتا ہے وہ سیر نہیں ہوتا اور یہاں اس طرف اشارہ ہے کہ وہ بدانسان جو سیر ہی نہ ہو جس کے گناہ ہوتے چلے جائیں اور پھر مزید کی طلب باقی رہے اس کی جہنم بھی ایسی ہی بنے گی کہ جب خدا پوچھے گا کہ تو سیر ہوگئی تو یہ کہے گی هـل مـن مـذيـد اور بھی کچھ ہے اور بھی کوئی جہنمی ہے تو ڈال کیونکہ یہ تو طلب نہ ختم ہونے والی طلب ہے یعنی ہر جہنمی جہنم کی تخلیق کرتا ہے اصل میں اور اس کا مزاج جہنم کا مزاج بن جاتا ہے لیکن یہ جو سیری ہے یہ اس سیری کا نہ ہونا اس کا نیکی سے بھی تعلق ہے اور وصال الہی سے بھی تعلق ہے اور یہاں وہ مضمون بیان نہیں ہورہا یہ میں سمجھانا چاہتا ہوں کہ وہاں بھی یہی مزاج ہے کہ سیری نہیں ہوتی اور پھر اس دعا سے پناہ مانگتا ہوں جو قبول نہیں کی جاتی یہ مضمون ایسا۔جسے ٹھہر کر سمجھنے کی ضرورت ہے۔بعض دفعہ دعائیں قبول نہیں ہوں کچھ دیر کے بعد قبول بھی ہو جاتی ہیں۔یہ کون سی دعا ہے جس سے پناہ مانگی جا رہی ہے ایسی دعا جو الہی منشاء کے خلاف ہو جس میں بندے کی رضا کا خدا کی رضا سے ٹکراؤ ہو فر مایا وہ دعا ہے جو قبول نہیں کی جاتی یعنی نہ آج نہ کل۔نہ جلد نہ بدیر۔اس لئے اے خداوہ دعا میرے دل میں ڈال ہی نہ ، وہ طلب ہی میرے دل میں پیدا نہ کر جس کو میں مانگوں جو تو نے قبول کرنی ہی نہیں کیونکہ وہ تیرے مزاج کے خلاف ہے۔پس یہ وہ علم کا مضمون ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے آج آپ کو بعض نصیحتیں بھی کرنی تھیں جو علمی کام سپر دہوئے ہیں جو ایم۔ٹی۔اے کے ذریعے جاری ہیں جس میں عدم تعاون کی وجہ سے بعض لوگوں کی لاعلمی کے نتیجے میں اب تک ساری دنیا کی جماعت انتظار میں بیٹھی ہے کہ وہ پروگرام کیوں نہیں شروع ہور ہے۔اس سلسلے میں پھر میں انشاء اللہ آئندہ خطبے میں روشنی ڈالوں گا اور جو وقت اس سے بچے گا وہ انشاء اللہ دوسری نصیحتوں میں صرف ہوگا۔اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ