خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 109
خطبات طاہر جلد 14 109 خطبہ جمعہ 10 فروری 1995ء کو احساس بھی ہے کہ نہیں یا سب کو احساس ہے ، کہ نہیں کہ یہ وہ ان کے آباؤاجداد نے جو تفقه في الدین کیا تھا یہ اسی کی برکت ہے کہ ان پر دنیا کے خزانے بھی انڈیلے جارہے ہیں۔پس آنحضرت ﷺ کی باتیں ایسے معلم کی باتیں ہیں جس کو خدا نے علم سکھایا ہے اور ان باتوں کو ملکی نظر سے دیکھنے سے آپ کا اپنا نقصان ہوگا ان میں ہی ڈو میں تو یہ تفقہ فی الدین ہے۔حضرت ابوقتادہ کی روایت ہے ابن ماجہ سے لی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا بہترین چیزیں جو انسان اپنی موت کے بعد پیچھے چھوڑ جاتا ہے وہ تین ہیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا گو ہو،صدقہ جاریہ جس کا ثواب اسے پہنچتا رہے گا اور ایسا علم جس پر اس کے بعد والے عمل کرتے رہیں۔( ابن ماجہ باب ثواب معلم الناس) تو علم کو عمل سے جوڑ دیا ہے اور حقیقی علم وہی ہے جس پر عمل ہو سکے اور جس کے نتیجے میں عمل سے فائدہ پہنچے۔ورنہ وہ علم جو زبانی کلامی بحثوں سے تعلق رکھتا ہے جیسے بعض دانشور اکٹھے مجلسیں لگاتے اور بظاہر علم کی باتیں کر رہے ہوتے ہیں لیکن اس کے پیچھے کوئی عمل بعد میں نہیں آتا ، نہ ان کی باتیں کسی عمل کا تقاضا کرتی ہیں، نہ کسی بعد میں آنے والے عمل کی نشاندہی کرتی ہیں۔دلچسپ مجلسیں ہیں خواہ شعراء کی ہوں یا دوسرے دانشوروں کی ہوں، تبصرہ نگاروں کی ہوں، وہ تو ان میں بیٹھنا ہے، اٹھنا ہے اور واپس چلے جانا ہے اور کوئی بھی روشنی ایسی نہیں ملتی جوراہ عمل دکھائے اور اس راہ عمل پر چل کر کوئی فائدہ پہنچ سکے۔حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ علم کے تعلق میں اپنے لئے یہ دعامانگا کرتے تھے کہ اے میرے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس علم سے جو بے فائدہ ہے۔کیسی اہم دعا ہے۔علم کا مضمون مکمل نہیں ہوتا اس دعا کے بغیر۔اس دل سے جس میں تیرا خشوع نہیں۔میں اس دل سے بھی پناہ چاہتا ہوں جس میں تیرا خوف اور تیرے سامنے عاجزی نہیں ہے یہ عین سے خشوع ہے جس مطلب ہے بجز اور جھکنا تیرے حضور۔اس دل سے پناہ مانگتا ہوں جو تیرے حضور بچھا نہیں رہتا۔اس نفس سے پناہ مانگتا ہوں جو سیر نہیں ہوتا۔یہاں عجیب بات ہے کہ جو ترجمہ کرنے والا ہے اس نے تین باتیں اپنی طرف سے کر دی ہیں حالانکہ چار باتیں ہیں ترجمہ میں لفظ تین غلط ہے۔میں نے عربی دیکھی ہے اس میں تین کا کوئی ذکر نہیں یہ روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ اپنے لئے یہ دعا مانگا کرتے تھے ایک یہ کہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس علم سے جو بے فائدہ ہے، اس دل سے