خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 108
خطبات طاہر جلد 14 108 خطبہ جمعہ 10 فروری 1995ء جوان باتوں میں وقت صرف کرتا ہے اس کے رزق میں برکت دی جاتی ہے۔اب یہ عجیب بات ہے کہ رزق کی برکت سے اس کا بظاہر کیا تعلق ہے لیکن اسی بات میں ڈوب کر دیکھیں تو سمجھ آجائے گی کیونکہ ہر علم میں دبے ہوئے خزانوں ہی کا نام حکمت ہے اور جو شخص دنیا کے خزانوں کی جستجو کی بجائے علوم کے خزانوں کی جستجو کرتا ہے اور ان کی تہہ تک اترتا ہے۔وہ چونکہ روحانی اور علمی خزانوں کو ترجیح دیتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ دنیا کے لحاظ سے اس کا ضامن بن جاتا ہے اور جس اعلیٰ مقصد کی خاطر اس نے ادنی چیزوں سے صرف نظر کی تھی اللہ تعالیٰ ان چیزوں کو بھی اس کا غلام بنا کر اس کے پیچھے چلاتا ہے۔ایک یہ بھی معنی ہے اور ایک یہ بھی معنی ہے کہ جنہوں نے علوم کی تہہ تک اتر نے میں پورا انہماک کیا خواہ وہ دنیا کے علوم ہی تھے ان کے لئے خدا تعالیٰ نے بے شمار دولتیں اور خزائن اسی تفقہ کے نتیجے میں پیدا فرما دیئے۔پس دنیا میں جتنی بڑی امیر قومیں ہیں، جتنی بڑی طاقتور قومیں ہیں وہ گویا آنحضرت ﷺ کے اس فرمان کی برکت سے عظیم اور طاقتور بنی ہیں۔اگر چہ انہوں نے براہ راست سنا نہیں ہے مگر حکمت کی بات تو دائمی ہوتی ہے ہر زمانے میں زندہ رہتی ہے۔پس آنحضرت ﷺ جو اس بات کا رزق میں برکت سے تعلق جوڑ رہے ہیں یہ کوئی فرضی بات نہیں ہے۔بہت ہی گہر ا مضمون ہے اور حقیقی اور دائمی مضمون ہے۔پس آج بھی اگر آپ دنیوی علم میں بھی تفقہ حاصل کریں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کے اموال میں، آپ کے قومی اموال اور طاقت اور آپ کی وجاہت میں برکت ڈالے گا اور ایسی قومیں پھر غریب نہیں رہتیں جو علم کے نیچے اتر کر اس کی تہہ تک جاکر ان کی حکمتوں کی تلاش کرتی ہیں اور انفرادی طور پر وہ لوگ بھی جو دین کے معاملے میں تفقہ کرتے ہیں اور گہری کھوج لگا کر علم کی باتوں کی تلاش کرتے ہیں، ان کی تہہ تک پہنچتے ہیں ان سے یہ خدا تعالیٰ کا ایک اور اس رنگ میں بھی وعدہ پورا ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کے اموال میں برکت ملتی ہے، ان کی اولاد کے اموال میں برکت ملتی ہے۔بعض دفعہ نسلاً بعد نسل وہ ان برکتوں کو کھاتے ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وہ صحابہ جنہوں نے تفقہ میں بہت زیادہ وقت صرف کیا ہے اور محنت کی ہے اور لوگوں کے لئے فیض کا موجب بنے ان کی اولادیں دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔بہت ہی خدا تعالیٰ سے رزق اور فضل میں انعام یافتہ ہیں مگر پتا نہیں ان میں سے کسی