خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 97 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 97

خطبات طاہر جلد 14 97 خطبہ جمعہ 10 فروری 1995ء مضمون ہے جس کے متعلق یعنی علم اور حکمت کے مضمون سے متعلق میں چندا حادیث آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کیونکہ علم اور حکمت ایسی دائمی چیز ہیں جو اگر رسول ﷺ موجود نہ بھی ہو تو اس کی خیر و برکت کو قوم میں جاری کرنے کا ایک بہت ہی اہم ذریعہ ہیں اور علم و حکمت ایک زمانے میں رسالت کی نمائندگی کا حق ادا کرتے ہیں اس لئے علم و حکمت کے اوپر بہت زور دینے کی ضرورت ہے اور روحانی اور دینی علوم کو اور دوسرے ہر قسم کے علوم کو جو حکمت کے تابع بیان ہوئے ہیں ان کو جماعت میں ترویج دینے کی بہت ضرورت ہے اور رمضان کا مہینہ خاص طور پر چونکہ مقاصد رسالت کو قائم کرنے اور جاری کرنے میں بہت ہی مفید اور محمد مہینہ ہے اور ہمارے یہ کام جو آنحضور کی غلامی میں ہم نے اپنے اوپر فرض کر کے رکھے ہیں ان کو یہ مہینہ آسان بنا دیتا ہے،اس لئے علم و حکمت سے تعلق میں کچھ نصیحتیں میں آج آپ کو کرنا چاہتا ہوں تا کہ رمضان کی برکت سے وہ اثر جو پہلے نہیں ہو سکا اب اس مہینے کی برکت سے وہ اثر قائم ہو اور اس کے نتیجے نکلیر حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں یہ ابن ماجہ کی حدیث ہے۔عن ابي هريرة رضى الله تعالى عنه قال قال رسول الله الله طلب العلم فريضته على كل مسلم ( ابن ماجہ باب فضل العلماء والحث على طلب العلم ) کہ علم کا طلب کرنا یہ ہر مسلمان کا فرض ہے۔اب یہ دیکھیں فریضہ استاد سے ہٹا کر شاگرد پر ڈال دیا گیا ہے استاد جومحمد رسول اللہ ﷺ کا غلام اور محمد رسول اللہ ﷺ کے نقش قدم پر چلتا ہے اس نے صلى الله تو علم پھیلا نا ہی پھیلانا ہے لیکن جنہوں نے اس سے فائدہ اٹھا نا ہے ان پر اگر فرض نہ کیا جائے تو وہ ہلکے انداز میں بعض دفعہ باتوں کو لیتے ہیں اور اس پیروی کو ایک زائد خدمت کے طور پر سمجھتے ہیں۔کی تو بہتر ہے نہ کیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔اس غلط فہمی کا ازالہ ہمیشہ کے لئے آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد نے فرما دیا کہ طلب العلم فریضته علی کل مسلم اگر تم مسلمان کہلاتے ہو تو یا درکھو علم کی طلب کرنا اور کرتے چلے جانا یہ تمہاری شخصیت کا حصہ بن چکے ہیں اور اس کو چھوڑ کر تم حقیقی معنوں سے مسلمان نہیں کہلا سکتے۔پھر ابن ماجہ ہی کی ایک حدیث ہے۔عن ابي هريرة رضي الله عنه ان النبي الله قال افضل الصدقه ان يتعلم المرء المسلم علماً ثم يعلمه اخاه المسم۔(ابن ماجہ باب ثواب معلم الناس الخير )