خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 96 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 96

خطبات طاہر جلد 14 96 96 خطبہ جمعہ 10 فروری 1995ء اول یہ کہ وہ آیات پڑھتا ہے اور ان آیات کی تلاوت کے نتیجے میں اللہ کو بندوں کے قریب کر دیتا ہے اور بندوں کو یہ توفیق ملتی ہے کہ ان آیات کے ذریعے براہ راست اپنے رب سے تعلق قائم کر سکیں اور جوں جوں یہ تعلق براہ راست قائم ہوتا چلا جاتا ہے ان کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور یہ تزکیۂ نفس بھی محتاج رہتا ہے رسول کی صحبت کا، رسول کے اعلی اور پاکیزہ اثر کا اور کوئی ایسی بات نہیں جو از خود حاصل ہو رہی ہو۔بظاہر براہ راست تعلق تو ہوتا ہے لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کی تلاوت کے نتیجے میں جب وہ آیات تلاوت کرتا ہے تو اس میں ایک غیر معمولی طاقت پائی جاتی ہے سچائی کی اور وہ سچائی کی طاقت ہے جو خدا کو گویا سامنے لا کر کھڑا کرتی ہے۔پھر اس رسول کے ایمان اور اس کی تقویت کے نتیجے میں جس کو یہ رسول دیکھتا ہے اس خدا کو اس کے غلام دیکھنے لگتے ہیں اور ان کے نتیجے میں آمنے سامنے گویا ایمان قائم ہو گیا۔اس کے نتیجے میں تزکیہ نفس ایک لازمی چیز ہے۔تزکیہ نفس کا تعلق علم سے اتنا نہیں جتنا کسی طاقتور ہستی کی موجودگی کے احساس سے ہے۔انسانی قوانین میں بھی یہی بات ہے جو بنیادی طور پر کارفرما ہے اگر ایک انسان کو علم ہو کہ میں ایک طاقتور قانون کی نظر میں ہوں جس کے ہاتھ مضبوط ہیں اور لمبے ہیں اور مجھ تک پہنچ سکتے ہیں تو جب تک یہ شعور موجود ہے یہ احساس موجود ہے انسان گناہ نہیں کر سکتا یعنی دنیا کا گناہ بھی نہیں کر سکتا۔تو دراصل تلاوت آیات کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ آنحضرت مے جس کامل یقین اور شان اور قوت کے ساتھ تلاوت آیات کرتے ہیں وہ دلوں میں ڈوبتی چلی جاتی ہے اور غائب خدا کو گویا حاضر کرتی چلی جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں ایسے لوگوں کا تزکیہ ایک طبعی اور لازمی امر ہے مگر رسول کی برکت کے نتیجے میں اس کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے۔وہی رسول آج بھی زندہ ہے یعنی روحانی اثرات کے لحاظ سے اور تلاوت بھی موجود ہے مگر وہ اثر دکھائی نہیں دے رہا جو اس زمانے میں ظاہر ہوا اور جس کا قرآن کریم گواہ بن گیا۔وہ سنتے تھے اور پاک ہوتے چلے جاتے تھے تو صحبت رسالت ایک بہت ہی عظیم کام ہے جو رسالت کے فرائض میں شامل ہے اور اس کی ضرورت سے انکار نہیں ہوسکتا۔تلاوت اپنی جگہ مگر رسول کی ذاتی صحبت اور اس کے تقدس سے تزکیہ حاصل کرنا یہ مضمون بھی ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔پھر فرمایا وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وہ انہیں کتاب کا علم بھی دیتا ہے اور حکمت کا علم بھی دیتا ہے۔یعلم کا جو فعل ہے دونوں پر چسپاں ہو رہا ہے۔يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ یعنی ان کو کتاب سکھاتا ہے وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ اور ان کو حکمت سکھاتا ہے۔یہ وہ