خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 95
خطبات طاہر جلد 14 95 95 خطبہ جمعہ 10 فروری 1995ء حکمت مومن کی گمشدہ متاع ہے۔تفقہ فی الدین اور حصول علم عظیم الشان نیکیاں ہیں۔(خطبه جمعه فرموده 10 فروری 1995ء بمقام بیت الفضل لندن )۔تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ تلاوت کیں۔يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِO هُوَ الَّذِى بَعَثَ فِي الْأُمِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلْلٍ مُّبِينٍ ( الجمعه 2 ، 3) پھر فرمایا :۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی رسالت کے چار عظیم فرائض جو آپ کے سپرد تھے اور آپ کی رسالت کا خلاصہ ہیں اس آیت کریمہ میں بیان فرمائے گئے ہیں جس کی میں نے تلاوت کی ہے۔اول مقصد ہر رسول کی بعثت کا خدا تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سنانا ہوتا ہے اور اسی طرح باقی تین مقاصد بھی جو بیان ہوئے ہیں وہ بھی دراصل رسالت کے مقاصد ہیں مگر بطور خاص حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ذات میں یکجائی صورت میں جس شان اور جس اعلیٰ ترتیب کے ساتھ قرآن کریم نے ل عليه بیان فرمائے ہیں ایسا ذ کر دوسری کتابوں میں نہیں ملتا۔اس تفصیلی بحث کی خاطر آج یہ میں نے تلاوت نہیں کی بلکہ اس کے ایک حصے پر روشنی ڈالنا مقصود ہے۔