خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 988
خطبات طاہر جلد 13 988 خطبه جمعه فرمودہ 30 دسمبر 1994ء محظوظ شراب نوشی کریں گے، عیش و عشرت کے تمام سامان جو پہلے سے مہیا کئے جاتے ہیں ان سے وہ مح ہوں گے اور لذت یاب ہوں گے اور بہت سی ایسی بے حیائیاں اس وقت سے وابستہ ہو جاتی ہیں جو عام حالات میں ایک آزاد قوم بھی نہیں کرتی ۔ پس ایک یہ بھی رد عمل ہے۔ ایک عمومی ہر طرف یہ رد عمل دکھائی دیتا ہے کہ اخبارات میں، ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر سال کے اہم واقعات ، کامیابیاں بھی اور ناکامیاں بھی دکھائی جاتی ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ یہ سال سیاسی لحاظ سے کیسا گزرا ۔ فلاں لحاظ سے، اقتصادی لحاظ سے کیسا گزرا، کون سے اہم واقعات ہیں جو قابل ذکر ہیں۔ ایک اور رد عمل جو ہونا چاہئے بعضوں میں ہوتا ہے مگر اکثر میں نہیں وہ انفرادی جائزہ ہے۔ اور یہ رد عمل سب سے زیادہ اہم ہے اور معنی خیز ہے جہاں تک سال کے آکرگزرجانے کا تعلق ہے یہ تو ایک وقت کا بہتا ہوا دریا ہے۔ اس میں جہاں بھی آپ لکیر کھینچیں اسے اہم لمحہ قرار دے سکتے ہیں مگر جو بہتے ہوئے دریا ہوتے ہیں ان کے درمیان در حقیقت جوڑ تصوراتی ہی ہیں اور محض مبارک باد دے دینا کہ پہلا سال گزر گیا ، نیا سال چڑھا ایک فرضی سی بات ہے جس میں کوئی گہری حقیقت نہیں ہے، کوئی ، نیا عقل کی بات ایسی نہیں کہ جس کے متعلق جماعت کو مشورہ دیا جائے کہ سب مبارک باد میں دو۔ مبارکبا د دل سے نکل آتی ہے تو نکلنے دو بے شک کوئی حرج نہیں مگر وہ مقصد کو پورا کرنے والی نہیں ۔ مگر مقصد کو پورا کرنے والی بات یہ ہے کہ اس سال کا جائزہ ہر فرد اپنی انفرادی حیثیت سے ، اپنی صورتحال، اپنے دل کی کیفیات پر غور کرتے ہوئے معلوم کرنے کی کوشش کرے کہ کون سے ایسے عظیم انقلابی لمحات تھے ، نیکی کے مواقع تھے جن کو وہ استعمال کرتے ہوئے اپنی روحانی کیفیت تبدیل کر سکتا تھا اور رستے بدل کر بہتر رستوں پر گامزن ہو سکتا تھا اور کون سے ایسے مواقع تھے جو اس کے لئے نیکیوں کو گنوانے والے تھے اور واضح طور پر بدیوں میں مبتلا کرنے والے تھے جس آواز کو اسے رڈ کرنا چاہئے تھا اس آواز کو رد نہ کر سکا اور ان غلط رستوں پر گامزن ہو گیا ۔ یہ جو واقعات ہیں یہ تو روز مرہ ہر انسان کی زندگی میں صبح سے شام تک ہوتے ہی رہے ہیں مگر بعض واقعات نمایاں ہو کر گہرا اثر چھوڑ جاتے ہیں اور بعض دفعہ زندگی کا رخ تبدیل کر دیتے ہیں۔ یہ ایسی بحث نہیں ہے جسے قومی اور اجتماعی طور پر اٹھایا جائے اور عامۃ الناس میں زیر بحث لایا جائے لیکن میرے نزدیک سب سے اہم رد عمل یہی ہے جو انسان کو وقت کے ایک حصے کے