خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 989 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 989

خطبات طاہر جلد 13 989 خطبه جمعه فرموده 30 دسمبر 1994ء گزرنے کے بعد دوسرے حصے کے آغاز کے جوڑ پر دکھانا چاہئے اور یہ ایک انسانی زندگی میں اچھی مفید روایت پیدا کرنے والی بات ہوگی یعنی اسے اگر مستقل اختیار کر لیا جائے تو ایک اچھی روایت ہے اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو بھی میری امت میں اچھی روایات قائم کرے گا ان پر عمل کرنے والا اور ان روایات سے فائدہ اٹھا کر آگے بات پہنچانے والا جب تک بھی ان روایات پر عمل ہوتا رہے گا ( مسند الاحتمام کتاب الادب ) اس وقت تک اس روایت کو جاری کرنے والے کو ان سب کا ثواب پہنچے گا جو اس نیک روایت سے استفادہ کرتے ہوئے پھر اسے آگے بڑھاتے ہیں۔پس یہ ایک ایسی روایت ہے میں سمجھتا ہوں جسے ہم اپنی جماعت میں جاری کریں تو محض سرسری مبارکبادوں سے اور جیسا کہ ہمارے ہاں مختلف رواج ہیں، پیدائش ہوئی ہے تو Birthday پہ مبارک باد دی، کہیں وہ پارٹیاں منائی جاتی ہیں ، کارڈ وغیرہ بھیجے جاتے ہیں ان کے مقابل پر یہ روایت دو طرح سے منائی جاسکتی ہے جو میں تجویز کر رہا ہوں۔اول یہ کہ جب سب دنیا پر ایک سال غروب ہوتا ہے اور ایک اور سال طلوع ہوتا ہے اس وقت اپنے نفس کا انسان جائزہ لے اپنے ماضی پر نگاہ رکھ کر اپنے اس سال کے ماضی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے، کچھ فیصلے کرے کہ آئندہ جب اس قسم کے امتحان در پیش ہوں گے تو یہ غلطیاں میں نہیں کروں گا اور روحانی طور پر جو اس نے کوشش اور جدو جہد کی اس پر بھی نظر ڈالے اور اس کے ماحصل کو بھی دیکھے۔مثلاً دعوت الی اللہ پہ زور دے تو ہر آدمی اپنے نفس پر غور کر سکتا ہے کہ میں نے انفرادی طور پر اس میں کیا حصہ لیا ہے کیا دوسروں کی کوششوں کا پھل دیکھ کر ہی لذت محسوس کر رہا ہوں یا خود مجھے بھی کچھ تو فیق ملی ہے خدا نے مجھے کوئی روحانی اولا د عطا کی ہے۔یہ سوچ گہری ہونی چاہئے معنی خیز ہونی چاہئے اور پھر اس کے ساتھ ہی اس سوچ کا ایک اور سلسلہ جاری ہونا چاہئے کہ میں آئندہ سال کیا ایسا پروگرام بناؤں کہ سال کے بعد پھر کہیں دوبارہ یہ پچھتانا نہ ہو۔جیسا کہ بعض شعراء نے اس قسم کے مضمون کو اپنے شعروں میں بڑی عمدگی سے باندھا ہے۔مثلاً بعض اشعار میں یہ ملتا ہے اب کے بھی دن بہار کے یونہی گزر گئے اور اس مصرع کی تکرار ہوتی ہے کہ بعض دفعہ بہار آنے سے پہلے تمنا ہوتی تھی کہ بہار میں یہ ہوگا اور وہ ہوگا مگر نہ یہ ہوانہ وہ ہوا اور بہار کے آخر پر انسان مڑ کے دیکھتا ہے تو حسرت سے کہتا ہے کہ