خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 973
خطبات طاہر جلد 13 973 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 /دسمبر 1994ء اگل رہی ہے لیکن پیشتر اس کے کہ وہ وقت آئے جبکہ نوح کی قوم کی سزا کی طرح آسمان سے بھی سزائیں برسی تھیں اور زمین سے بھی اس زور اور شدت کے ساتھ پھوٹی تھیں کہ ساری قوم ان سزاؤں میں غرق ہوگئی تھی۔میں ساری قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ ان حالات کو سمجھیں اور غور کریں۔جو بد بخت قاتل اور ان کے سرغنے ہیں ان کو پکڑیں اور حکومت کو یہ واضح طور پر ان سب کو بتا دینا چاہیئے کہ آج کے بعد ہم اس خباثت کو برداشت نہیں کریں گے۔اگر حکومت ایسا کرے اور اپنے کارندوں ہی کو یہ پیغام دے دے تو ناممکن ہے کہ اگلا اقتل ہو سکے کیونکہ سارے لوگ نظر میں ہیں اور پتا ہے سب کو کون لوگ ہیں اس لئے پھر پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔تو اتنی بات میں عرض کروں گا۔جہاں تک شہید کا تعلق ہے اس کے خاندان کا تعلق ہے میں نے پہلے بھی بارہا عرض کیا ہے کہ یہ عظیم سعادتیں ہیں جن کے ساتھ کانٹے بھی لگے ہوتے ہیں۔کانٹوں کے دکھ تو کچھ عرصے بعد مندمل ہو کر ختم ہو جائیں گے یعنی زخم مندمل ہوں گے تو وہ دکھ دور ہو جائیں گے لیکن یہ سعادتیں ہمیشہ ہمیش کی سعادتیں ہیں اور سندھ پر بھی احمدیت کے حق میں یہ رحمتوں کی بارشیں بن کر برسیں گی اور ساری دنیا میں بھی جماعت ان سے استفادہ کرے گی تو شہادت کا مضمون بڑا ہی مشکل مضمون ہے جس کا بیان کرنا۔آنحضرت ﷺ کا جو عظیم حوصلہ تھا وہی علاج ہے مگر وہ حوصلہ سب کو نصیب نہیں ہوتا اس لئے دعا کرنی چاہئے کہ اللہ ہمیں اس حو صلے سے ملتا جلتا کچھ حوصلہ عطا کرے تا کہ جانتے ہوئے کہ خدا کی تقدیر کے تابع ہو رہا ہے اور اس کے پس پردہ بہت عظیم رحمتیں چھپی ہوئی ہیں جن کو بارہا ہم دیکھ بھی چکے ہیں پھر بھی ہمیں جب کانٹے چھتے ہیں تو بعض دفعہ حوصلہ جواب دینے لگتا ہے تو دعا مانگنی چاہئے کہ اللہ جماعت کے حوصلے کو بھی وسعت عطا فرمائے اور جماعت کے صبر کو استقامت بخشے۔اب ٹیلی ویژن کے متعلق جو میں نے آپ سے گزارش کی تھی اس کے متعلق کچھ نوٹس میں نے آنے سے پہلے چند منٹ میں لکھے تھے تا کہ کوئی بات رہ نہ جائے مگر ڈر ہے کہ رہ جائے گی کیونکہ بہت سا وقت تو تمہیدی باتوں میں خرچ ہو چکا ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ عالمی طور پر جو تو قعات تھیں گو جماعتیں بڑے بڑے ملک خصوصیت سے پروگرام بنانے میں مدد کریں گے وہ ابھی تک تو قعات پوری نہیں ہوئیں یہاں تک کہ پاکستان میں مرکز کو بھی میں نے واضح ہدایات دی تھیں کہ ہم توقع رکھتے ہیں کہ جو پاکستان میں بارہ گھنٹے کا پروگرام ہے اس میں آپ ان خطوط پر کام کر کے چند گھنٹے کا