خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 970
خطبات طاہر جلد 13 970 خطبه جمعه فرموده 23 دسمبر 1994ء نائیجیریا کے ان کی امارت میں پہلا جلسہ سالانہ ہے نائیجیریا کا اور جب سے وہ امیر بنے ہیں ،ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا لیکن اللہ کے فضل کے ساتھ پہلے بھی بے حد مخلص اور فدائی کا رکن تھے اور بہت سلیقہ والے اور دماغی صلاحیتوں کے لحاظ سے بہت متوازن اور اب جب سے امارت سنبھالی ہے وہ دن رات نظام جماعت کی حالت بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں یعنی نظام میں تبدیلیاں لا کر نہیں بلکہ نظام پر عمل پیرا ہو کر اور عمل کروا کر ۔ جو وہاں نظام جاری ہے اس میں ان کے آنے کے بعد نمایاں طور پر اچھے رجحانات دکھائی دے رہے ہیں۔ تو عالمی طور پر ان کی دعاؤں کے ذریعہ مدد کرنی چاہئے۔ نائیجیریا کی جماعت میں جتنی صلاحیتیں ہیں اب تک وہ بروئے کار نہیں لائی گئیں اور ویسے یہ جماعت اللہ کے فضل کے ساتھ بہت بڑی صلاحیتوں کی مالک ہے۔ ہر طبقہ فکر کی نمائندگی اس میں ہے اور جماعت سے لوگ گہرا اخلاص رکھتے ہیں اگر چہ عدم تربیت کے نتیجہ میں بعض دفعہ بعض نقصانات بھی پہنچے مثلاً بعض جماعتیں ایسی ہیں جو جماعت احمدیہ میں سے نکلی ہیں اور پھر الگ جماعتیں بنیں لیکن جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ان کی وفاداری کا تعلق ہے وہ یہ حال ہے کہ الگ ہونے کے باوجود جو انتظامی مسائل کی وجہ سے الگ ہوئی تھیں، اپنی لاعلمی کہ کس موقع پر کیا کرنا چاہئے بد قسمتی سے اس وقت ان کو براہ راست خلیفہ وقت کی نگرانی حاصل نہیں تھی واسطے بیچ میں تھے اس لئے نہ صحیح صورت حال خلیفہ وقت تک پہنچتی تھی اور نہ خلیفہ وقت کا منشاء ان پر پوری طرح روشن کیا جارہا تھا وہ الگ ہو گئیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وفا کا تعلق قائم رکھا۔ آپ کے تمام عقائد پر ایمان لاتی رہیں اور یہ بھی نہیں کہ لاہوریوں کی طرح کوئی نیا عقیدہ گھڑ لیا ہو۔ صرف انتظامی علیحدگی ہوئی ہے اور اس سے ان کو بھی نقصان پہنچا اور جماعت کو بھی نقصان پہنچا لیکن جب میں نائیجیریا گیا تھا تو ایسی جگہوں پہ گیا ہوں ان کے جو بھی اس وقت امیر تھے انہوں نے بڑے اصرار سے دعوت دی اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ سب کو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تعلق میں اور آپ کے ایمان میں پوری طرح مستعد پایا۔ تو یہ صلاحیتیں جو میں گنوار ہا ہوں اگر چہ مثال دے رہا ہوں ایک نقصان کی لیکن بتانا چاہتا ہوں کہ اتنے بڑے نقصان کے باوجود ان کا احمدیت سے وفا کرنا بتاتا ہے کہ جو کچھ کر رہے ہیں سوچ سمجھ کر کر رہے ہیں۔ احمدیت کو قبول کرتے ہیں تو پورے شرح صدر کے ساتھ قبول کرتے ہیں اور پھر کسی قسم کے ابتلا ان کو احدیت کے دائرے سے باہر نہیں پھینک سکتے۔ یہ لوگ خاص دعاؤں کے محتاج ہیں۔