خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 946
خطبات طاہر جلد 13 946 خطبہ جمعہ فرموده 9 دسمبر 1994ء کیا ہے۔جس کی وجہ سے میں چاہتا ہوں کہ نمایاں طور پر ان کی نماز جنازہ ادا کی جائے اور اس میں ساری دنیا بھی دعا میں شامل ہو جائے گی یعنی نماز جنازہ تو ہمارے ساتھ نہیں پڑھ سکتی مگر دعا میں شامل ہو جائے گی۔میں جب انگلستان میں آیا ہوں تو شروع شروع میں ان دونوں میاں بیوی ، ڈاکٹر حمید اور ساجدہ نے مجھے لکھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہم واپس چلے جائیں گے کیونکہ یہاں پوری طرح دل بھی نہیں لگ رہا اور کام بھی ٹھیک سیٹ نہیں ہور ہے۔تو ہمیں اجازت دیں کہ ہم واپس چلے جائیں ان کو میں نے کہا خاص طور پر ساجدہ کو مخاطب کر کے کہ تم کیا پیچھے چھوڑ کر جاؤ گی۔کوئی تم نے جماعت نہیں بنائی، خالی ہاتھ تمہیں یہاں سے بھجوانے کو میرا دل نہیں چاہتا۔اس لئے چلے جانا مگر تھوڑی دیر کے لئے ٹال دو اس فیصلے کو اور کوشش کرو، خدا تمہیں توفیق دے یہاں جماعت قائم ہو جائے۔اس کے نتیجہ میں دونوں بہت سعید فطرت تھے، حمید تو ہیں بھی ، انہوں نے فوری طور پر فیصلہ کیا کہ ہم جب تک یہاں جماعت قائم نہیں کریں گے ہم نہیں جائیں گے اور پھر جماعت قائم کرنے کی توفیق ملی تو پھر جانا کہاں جا تا تھا۔اپنے روحانی بچے ، ان کی روحانی ماں بنی ہوئی۔ایسی تربیت ان کی اور اتنا پیار تھا کہ آپس میں کہ ان کے وصال کے بعد ہمارے جو ملنے والے وہاں گئے تھے جنازہ میں شامل ہونے کے لئے ، وہ بتاتے ہیں کہ والہانہ محبت کا اظہار تھا ان انگریزوں کی طرف سے جنہوں نے ساجدہ کے فیض سے اسلام قبول کیا اور بہت اچھی تربیت اور انگلستان میں ایک ہی جماعت تھی ابھی تک شاید ایک ہی ہو جس میں انگریزوں کا غلبہ تھا اور غیر ملکی نسبتا کم تھے اور بہت ہی اچھی تربیت یعنی جہاں انگریز اقدار کو جو جائز ہیں قربان کئے بغیر اسلامی اقدار کو اس طرح اپنا لیا گیا کہ بہترین امتزاج تھا اللہ کے فضل کے ساتھ۔کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ اسلام نے یہاں انگریزیت مٹادی ہے۔انگریزیت کی اچھی باتیں بہت سی ہیں وہ اسی طرح قائم تھیں بلکہ پہلے سے بھی زیادہ حسین ہو گئیں اور اسلام کی اچھی اقدار بھی سب اپنے اندر سمیٹ لیں۔تو یہ وہ وجہ ہے جس کی وجہ سے میں چاہتا ہوں کہ اب جمعہ اور عصر کی نماز کے بعد ان کی نماز جنازہ پڑھائی جائے چونکہ انہوں نے بعد میں مجھے لکھ دیا کہ اب ہمارا جانے کو دل نہیں چاہتا اس لئے نعش کا سوال ہوا کہ کہاں دفنائی جائے تو میں نے ڈاکٹر حمید سے کہا کہ وہیں دفنا ئیں۔اسی سرزمین کا اب حق ہے کہ ان کو اپنے پاس رکھے۔تو انشاء اللہ عصر کی نماز کے معابعد عزیزہ ساجدہ کی نماز جنازہ ہوگی۔