خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 945
خطبات طاہر جلد 13 945 خطبه جمعه فرموده 9 دسمبر 1994ء آئے ، دونوں لڑ پڑے پھر کون مرا یہ اتفاقی حادثہ ہے مگر گناہ میں دونوں برابر کے شریک تھے۔ مرنے والا بھی اپنے اس جرم کی پاداش میں سزا دیا جائے گا اور جس نے قتل کر دیا ہے اس کو تو سزا ملے گی ہی ۔ پس لڑائی کے وقت یہ بات ضروری ہے کہ اگر تو آپ کلیہ معصوم ہیں تو پھر آپ کی لڑائی کا گناہ خدا کے نزدیک آپ پر نہیں ہے۔ لے لیکن حضرت آدم کے بیٹے نے ایک اور مثال قائم فرمادی جو خدا کو پسند آئی کہ قیامت تک کے لئے اس کا ذکر محفوظ فرما دیا۔ اسکے اپنے بھائی نے جب اسکے قتل کا ارادہ کیا تو اس نے کہا کہ میں دفاع نہیں کروں گا ۔ یعنی دفاع کا ایسا حق نہیں ہے جو لازم ہو کہ ضرور استعمال کیا جائے اور اس نے بتا دیا کہ اس میرے دفاع نہ کرنے کے نتیجے میں لازماً خدا کا عذاب تجھ پر پڑے گا اور میں بالکل کلیہ بری الذمہ ہو جاؤں گا یعنی اپنی موت قبول کرلی بہ نسبت اس کے خدا کے عذاب کا Risk - یعنی یہ خطرہ مول لے کہ خدا کی ناراضگی کا مورد بنے۔ تو احتیاط اسی میں ہے کہ خدا کی ناراضگی کے ہر موقع سے انسان بچنے کی کوشش کرے، خواہ اپنا کچھ نقصان بھی ہو جائے ۔ ایسے بھی گزرے ہیں جو نبی نہیں تھے لیکن جان کا نقصان برداشت کر لیا لیکن خدا کی ناراضگی کا خطرہ مول نہ لیا۔ تو اللہ تعالیٰ جماعت کو حضرت محمد مصطفی علی کی نصائح کو سمجھنے کی توفیق بخشے اور دلوں کو روشن کرنے کی توفیق بخشے ۔ ایسے اے اندھے دلوں پر یہ بات نہ پڑے جن پر تالے پڑے ہوتے ہیں اور روشنی کی رمق اندر نہیں جاتی۔ ہمیں بہت ضرورت ہے اصلاح معاشرہ کی اور یہی ساری طاقت ہے یعنی دعاؤں کے بعد اصل طاقت ہمارے معاشرے کے حسن کی طاقت ہے یہ حسن ہمیں نصیب ہو جائے تو لازماً ہم نے دنیا پہ غالب آنا ہے کوئی دنیا کی طاقت روک نہیں سکتی ۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے ۔ خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: نماز جمعہ اور اس کے بعد نماز عصر کے بعد آج کل چونکہ دن بہت چھوٹے ہو گئے ہیں اور ابھی عصر کا وقت ہو چکا ہے یعنی اس وقت سے آدھ گھنٹے پہلے سے عصر کا وقت شروع ہو چکا ہے۔ اس لئے چھوٹے دنوں میں ہم جمعہ کے ساتھ عصر کی نماز کو جمع کرنے پر مجبور ہیں۔ تو عصر کی نماز کے بعد ایک نماز جنازہ غائب ہو گی جو عزیزہ ساجدہ حمید کی نماز جنازہ غائب ہے۔عام طور پر تو میں حاضر جنازوں کے ساتھ غائب جنازے پڑھا دیا کرتا ہوں لیکن اس ملک میں انہوں نے ایک ایسا عظیم کارنامہ