خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 934 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 934

خطبات طاہر جلد 13 934 خطبه جمعه فرموده 9 دسمبر 1994ء غرض سے رکھا جا رہا ہے کہ باوجود دینی مخالفت کے اور بڑے بھاری دینی دباؤ کے وہ مالک سمجھتا ہے کہ یہ زیادہ دیانتدار ہیں ان پر میں اعتماد کر سکتا ہوں دوسروں پر ایسا اعتماد نہیں کرسکتا۔تو دیانت سے بڑھ کر کوئی بڑا سرمایہ نہیں ہے اگر دیانت ہو تو بے پیسے کے بھی انسان کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے اور ایسے انسان پر دوسرا یقین کرتا ہے، اعتماد کرتا ہے اس کو سرمایہ دے کر آگے بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔لیکن اگر دیانت نہ ہو تو امیر سے امیر آدمی کا سرمایہ بھی اس کے کسی کام کا نہیں رہتا۔پس حضرت محمد مصطفی ﷺ نے جہاں قرضوں کا مضمون بیان فرمایا وہاں قرضوں کی دیانت کی ادائیں بھی سکھائی ہیں۔ہر دائرے کی اپنی اپنی ادائیں ہیں۔قرضوں کے دائرے میں اخلاق اور حسن خلق کا مضمون قرضوں سے تعلق کی وساطت سے بیان کیا جاتا ہے۔پس اس پہلو سے بھی آنحضرت ﷺ نے کوئی کو نہ ایسا چھوڑا نہیں جہاں آپ نے روشنی نہ ڈالی ہو۔تو مسلمانوں کے لیے پھر اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کا کیا موقع رہ جاتا ہے۔اس کے باوجود اگر احمدیوں میں کوئی ایسے ہوں جو اندھیروں میں ٹکریں مارتے ہیں اور پھر نقصان پہنچاتے ہیں کہیں ان کا گھٹنا ٹوٹتا ہے کہیں وہ ٹھوکر کھا کر گرتے ہیں تو نور مصطفوی کو انہوں نے اندر آنے نہیں دیا۔یہ میں سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ہے یہ نور اور اس سے اندھیرے لازماً زائل ہوتے ہیں۔یہ ہوہی نہیں سکتا کہ یہ نور سینے میں داخل ہو جائے اور پھر اندھیرے باقی رہ جائیں۔لیکن سینے میں داخل کرو اور اگر دل اندھے ہیں تو پھر دلوں کا علاج کرو اور وہ استغفار اور دعا سے ٹھیک ہو سکتے ہیں لیکن جماعت احمدیہ میں معاملات ایسے صاف ستھرے، ایسی عمدگی سے چلنے چاہئیں جیسے مشین بہت اچھی طرح Lubricated ہواور ہر قسم کی اس کی حرکت کی ضرورتیں پوری کی جارہی ہوں، جتنا تیل چاہئے وہ تیل بھی مل رہا ہو ، جتنی طاقت درکار ہے وہ طاقت بھی مل رہی ہو تو ایسی سوسائٹی پھر خوب پنپتی ہے۔اور چونکہ اب ذمہ داریاں بڑھ رہی ہیں ایسے احمدیوں کی ضرورت ہے جو زیادہ خوشحال اور دلوں کی وسعتیں رکھتے ہوں ، اعلیٰ دینی اخلاق سے مرصع ہو کر ان میں قربانی کا جذبہ ہو، قربانی کی تمنائیں ہوں تا کہ وقت کی بڑھتی ہوئی ضرورتیں جماعت احمد یہ آسانی سے پوری کر سکے۔ہوتی تو ہیں اور ہوتی رہیں گی، مجھے یقین ہے لیکن وہ جو کمزور الگ بیٹھے ہیں وہ بھی شامل ہو جائیں گے لیکن اگر کوئی شخص ملتا ہے جو باوجود ان نصیحتوں کے اپنے قرضوں کے معاملات کو درست نہیں کرتا اور دیانتداری کو